Skip to content

Month: December 2020

رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں

رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں
ہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ لئے پاؤں میں

ان کو بھی ہے کسی بھیگے ہوئے منظر کی تلاش
بوند تک بو نہ سکے جو کبھی صحراؤں میں

اے میرے ہمسفرو تم بھی تھکے ہارے ہو
دھوپ کی تم تو ملاوٹ نہ کرو چھاؤں میں

جو بھی آتا ہے بتاتا ہے نیا کوئی علاج
بٹ نہ جائے ترا بیمار مسیحاؤں میں

حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کا
اب تو مہنگائی کے چرچے ہیں زلیخاؤں میں

جس برہمن نے کہا ہےکہ یہ سال اچھا ہے
اس کو دفناؤ مرے ہاتھ کی ریکھاؤں میں

وہ خدا ہے کسی ٹوٹے ہوئے دل میں ہو گا
مسجدوں میں اسے ڈھونڈو نہ کلیساؤں میں

ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے
اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں

مجھ سے کرتے ہیں قتیلؔ اس لئے کچھ لوگ حسد
کیوں مرے شعر ہیں مقبول حسیناؤں میں

Leave a Comment

جب تم سے اتفاقا میری نظر ملی تھی

جب تم سے اتفاقا میری نظر ملی تھی
اب یاد آ رہا ہے شاید وہ جنوری تھی

تم یوں ملی دوبارہ پھر ماہِ فروری میں
جیسے کہ ہمسفر ہو تم راہِ زندگی میں

کتنا حسِین زمانہ آیا تھا مارچ لے کر
راہِ وفا پہ تھی تم وعدوں کی ٹارچ لے کر

باندھا جو عہدِ الفت اپریل چل رہا تھا
دنیا بدل رہی تھی موسم بدل رہا تھا

لیکن مئی جب آئی جلنے لگا زمانہ
ہر شخص کی زباں پہ تھا بس یہی افسانہ

دنیا کے ڈر سے تم نے جب پھیری تھی نگاہیں
تھا جون کا مہینہ لب پہ تھی گرم آہیں

جولائی میں تم نے کی بات چیت کچھ کم
تھے آسمان پہ بادل اور میری آنکھیں پرنم

ماہِ اگست میں جب برسات ہو رہی تھی
تب آنسوؤں کی بارش دن رات ہو رہی تھی

اب یاد آ رہا ہے وہ ماہ تھا ستمبر
بھیجا تھا تم نے مجھ کوترکِ وفا کا لیٹر

تم غیر ہو گئی تھی اکتوبر آ گیا تھا
دنیا بدل چکی تھی موسم بدل چکا تھا

جب آ گیا نومبر وہ بھیگی رات آئی
مجھ سے تمہیں چھڑانے سج کر بارات آئی

اک قید تھا دسمبر جذبات مر چکے تھے
موسم تھا سرد اس میں ارمان بکھر چکے تھے

Leave a Comment

تیز آندھیوں میں اُڑتے پَر و بال کی طرح

تیز آندھیوں میں اُڑتے پَر و بال کی طرح
ہر شے گزشتنی ہے مَہ و سال کی طرح

کیوں کر کہوں کہ درپئے آزار ہے وہی
جو آسماں ہے سَر پہ مِرے ڈھال کی طرح

یوں بے سبب تو کوئی انہیں پوجتا نہیں
کچھ تو ہے پتھروں میں خدوخال کی طرح

کیا کچھ کیا نہ خود کو چھپانے کے واسطے
عریانیوں کو اوڑھ لیا شال کی طرح

اب تک مِرا زمین سے رشتہ ہے استوار
رہنِ ستم ہوں سبزۂِ پامال کی طرح

میں خود ہی جلوہ ریز ہوں، خود ہی نگاہِ شوق
شفّاف پانیوں پہ جھکی ڈال کی طرح

ہر موڑ پر ملیں گے کئی راہ زن شکیبؔ
چلیے چھپا کے غم بھی زَر و مال کی طرح

شکیب جلالی

Leave a Comment

تیرے گاؤں کی خیر ہو آمین

تیرے گاؤں کی خیر ہو آمین
تیری راہوں کی خیر ہو آمین

جن نگاہوں نے تجھکو دیکھا ہو
ان نگاہوں کی خیر ہو آمین

جن صداؤں کو تیرے کان سنیں
ان صداؤں کی خیر ہو آمین

جن ہواؤں کو تیرا لمس ملے
ان ہواؤں کی خیر ہو آمین

جن گداؤں کو تیری بھیک ملے
ان گداؤں کی خیر ہو آمین

جن دعاؤں میں تیرا نام بسے
ان دعاؤں کی خیر ہو آمین

جن گناہوں کو تیرا دل چاہے
ان گناہوں کی خیر ہو آمین

تیرے ہاتھوں سے روشنی پھوٹے
نرم بانہوں کی خیر ہو آمین

جن فضاؤں میں تیری خوشبو ہو
ان فضاؤں کی خیر ہو آمین

Leave a Comment

میں تو ہوں صرف قصہ خواں اس میں

میں تو ہوں صرف قصہ خواں اس میں
دنیا تیری ہے داستاں اس میں

چاہے کوئی بھی دل ٹٹولو تم
کوئی رہتا ہے نیم جاں اس میں

کٹ رہا ہے شجر شجر یہ چمن
کیسا غافل ہے باغباں اس میں

کبھی محفل تھی غم گساروں کی
آج رہتے ہیں بدگماں اس میں

خود جہاں دے گا آندھیوں کو خبر
تم بناﺅ تو آشیاں اس میں

ہر تعلق ہے ناو کاغذ کی
اور محبت ہے بادباں اس میں

گھر بناو تو احتیاط کرو
رہ نہ جائے فقط مکاں اس میں

تھے فسانے کی آنکھ میں آنسو
ذکر آیا مرا جہاں اس میں

مل گئی تو گذار لی ہم نے
یوں جیا جاتا ہے کہاں اس میں

گو کہ ساکت ہے زندگی میری
درد رکھّا گیا رواں اس میں

شکوہ ہے تو حیات سے اتنا
جا رہا ہوں میں رایگاں اس میں

یہ زمانہ ہے آئنہ ، ابرک
ڈھونڈتا کیا ہے خوبیاں اس میں

Leave a Comment

ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی

ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی
جذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہی

ضعف قویٰ نے آمد پیری کی دی نوید
وہ دل نہیں رہا وہ طبیعت نہیں رہی

سر میں وہ انتظار کا سودا نہیں رہا
دل پر وہ دھڑکنوں کی حکومت نہیں رہی

کمزوریٔ نگاہ نے سنجیدہ کر دیا
جلووں سے چھیڑ چھاڑ کی عادت نہیں رہی

ہاتھوں سے انتقام لیا ارتعاش نے
دامان یار سے کوئی نسبت نہیں رہی

پیہم طواف کوچۂ جاناں کے دن گئے
پیروں میں چلنے پھرنے کی طاقت نہیں رہی

چہرے کو جھریوں نے بھیانک بنا دیا
آئینہ دیکھنے کی بھی ہمت نہیں رہی

اللہ جانے موت کہاں مر گئی خمارؔ
اب مجھ کو زندگی کی ضرورت نہیں رہی

Leave a Comment

زخمِ دل پُربہار دیکھا ہے

زخمِ دل پُربہار دیکھا ہے
کیا عجب لالہ زار دیکھا ہے

جن کے دامن میں‌ کچھ نہیں ہوتا
اُن کے سینوں میں پیار دیکھا ہے

خاک اُڑتی ہے تیری گلیوں میں‌
زندگی کا وقار دیکھا ہے

تشنگی ہے صدف کے ہونٹوں پر
گُل کا سینہ فِگار دیکھا ہے

ساقیا! اہتمامِ بادہ کر
وقت کو سوگوار دیکھا ہے

جذبۂ غم کی ، خیر ہو ساغر
حسرتوں پر نِکھار دیکھا ہے

Leave a Comment

خطا مُعاف یہ کُچھ اور ہے حیاء تو نہیں

خطا مُعاف یہ کُچھ اور ہے حیاء تو نہیں
کہِیں یہ ترکِ تعلق کی ابتدا تو نہیں

یہ بات الگ ہے کہ آنکھوں کے بند ٹوٹ گئے
مگر زباں سے کبھی ہم نے کُچھ کہا تو نہیں

خطا تو جب ہو کہ ہم عرضِ مدعا بھی کریں
کسی کو چاہتے رہنا کوئی خطا تو نہیں

نصیب کیسے بدل دے کوئی سفینے کا
جو نا خُدا ہے وہ سب کُچھ سہی خُدا تو نہیں

جو بات دل میں ہے بے خوف کیوں نہیں کہتے
زبان و قلب میں کُچھ ایسا فاصلہ تو نہیں

شیوخِ شہر کو تم دیکھ کر پلٹ آئے
کسی سے پُوچھ تو لیتے وہ میکدہ تو نہیں

نہ جانے قافلے والے خفا ہیں کیوں مجھ سے
میں صرف ایک مسافر ہوں رہنما تو نہیں

قدم اٹھے ہیں تو منزل بھی مِل ہی جائے گی
میں بے بسر سہی لیکن شکستہ پا تو نہیں

حُضور آپ نے اقبال کو غلط سمجھا
وہ پارسا ہے مگر آدمی بُرا تو نہیں

Leave a Comment

میرے رسول کہ نسبت تجھے اجالوں سے

میرے رسول کہ نسبت تجھے اجالوں سے
میں ترا ذکر کروں صبح کے حوالوں سے

نہ میری نعت کی محتاج ذات ہے تری
نہ تری مدح ہے ممکن ترے خیالوں سے

تُو روشنی کا پیمبر ہے اور میری تاریخ
بھری پڑی ہے شبِ ظلم کی مثالوں سے

ترا پیام محبت تھا اور میرے یہاں
دل و دماغ ہیں پُر نفرتوں کے جالوں سے

یہ افتخار ہے ترا کہ میرے عرش مقام
تُو ہمکلام رہا ہے زمین والوں سے

مگر یہ مفتی یہ واعظ یہ محتسب یہ فقیہہ
جو معتبر ہیں فقط مصلحت کی چالوں سے

خدا کے نام کو بیچیں مگر خدا نہ کرے
اثر پذیر ہوں خلقِ خدا کے نالوں سے

ہے تُرش رو میری باتوں سے صاحبِ منبر
خطیبِ شہر ہے برہم میرے سوالوں سے

میرے ضمیر نے قابیل کو نہیں بخشا
میں کیسے صلح کروں قتل کرنے والوں سے

میں بے بساط سا شاعر ہُوں پر کرم ترا
کہ باشرف ہُوں قبا و کلاہ والوں سے

Leave a Comment

آنکھوں کا رنگ ، بات کا لہجہ بدل گیا

آنکھوں کا رنگ ، بات کا لہجہ بدل گیا
وہ شخص ، ایک شام میں کتنا بدل گیا

کُچھ دن تو میرا عکس رھا ، آئینے پہ نقش
پھر یوں ھُوا ، کہ خُود میرا چہرا بدل گیا

جب اپنے اپنے حال پہ ، ھم تم نہ رہ سکے
تو کیا ھُوا ، جو ھم سے زمانہ بدل گیا ؟؟

قدموں تلے جو ریت بچھی تھی ، وہ چل پڑی
اُس نے چھڑایا ھاتھ تو ، صحرا بدل گیا

کوئی بھی چیز ، اپنی جگہ پر نہیں رھی
جاتے ھی ایک شخص کے ، کیا کیا بدل گیا

اِک سر خوشی کی موج نے ، کیسا کیا کمال
وہ بے نیاز ، سارے کا سارا بدل گیا

اُٹھ کر چلا گیا ، کوئی وقفے کے درمیاں
پردہ اُٹھا ، تو سارا تماشا بدل گیا

حیرت سے سارے لفظ اُسے دیکھتے رھے
باتوں میں اپنی بات کو کیسا بدل گیا

کہنے کو ایک صحن میں ، دیوار ھی بنی
گھر کی فضا ، مکان کو نقشہ بدل گیا

شاید وفا کے کھیل سے ، اُکتا گیا تھا وہ
منزل کے پاس آ کے ، جو رستہ بدل گیا

قائم کسی بھی حال پہ ، دُنیا نہیں رھی
تعبیرکھو گئی ، کبھی سَپنا بدل گیا

منظر کا رنگ اصل میں سایا تھا رنگ کا
جس نے اُسے جدھر سے بھی دیکھا بدل گیا

اندر کے موسموں کی خبر اُس کو ھو گئی
اُس نو بہارِ ناز کا چہرا بدل گیا

آنکھوں میں جتنے اشک تھے ، جگنو سے بن گئے
وہ مُسکرایا ، اور میری دُنیا بدل گیا

اپنی گلی میں اپنا ھی گھر ڈھونڈتے ھیں لوگ
امجد یہ کون شہر کا نقشہ بدل گیا ؟؟

امجد اسلام امجد

Leave a Comment
%d bloggers like this: