Skip to content

Tag: Abdul Hameed Adam

Abdul Hameed

وہ باتیں تری وہ فسانے ترے

وہ باتیں تری وہ فسانے ترے
شگفتہ شگفتہ بہانے ترے

بس اک داغ سجدہ مری کائنات
جبینیں تری ، ، آستانے ترے

مظالم ترے عافیت آفریں
مراسم سہانے سہانے ترے

فقیروں کی جھولی نہ ہوگی تہی
ہیں بھرپور جب تک خزانے ترے

دلوں کو جراحت کا لطف آ گیا
لگے ہیں کچھ ایسے نشانے ترے

اسیروں کی دولت اسیری کا غم
نئے دام تیرے ، ، پرانے ترے

بس اک زخم نظارہ حصہ مرا
بہاریں تری ، ، آشیانے ترے

فقیروں کا جمگھٹ گھڑی دو گھڑی
شرابیں تری ، ، بادہ خانے ترے

ضمیر صدف میں کرن کا مقام
انوکھے انوکھے ٹھکانے ترے

بہار و خزاں کم نگاہوں کے وہم
برے یا بھلے سب زمانے ترے

عدمؔ بھی ہے تیرا حکایت کدہ
کہاں تک گئے ہیں فسانے ترے

عبد الحمید عدم

Leave a Comment

ہم سے تو دیکھا نہیں جاتا

ہو بیش کہ کم، ہم سے تو دیکھا نہیں جاتا
انسان کا غم، ہم سے تو دیکھا نہیں جاتا
ہمراہ ترے کیوں نہ خدا آپ ہی خود ہو
یہ قہر، صنم! ہم سے تو دیکھا نہیں جاتا
یاروں کی خوشی دیکھ کے ہو جاتے ہیں زندہ
یاروں کا الم ہم سے تو دیکھا نہیں جاتا
ہم ہی نظر آئیں تمھیں الطاف کے قابل
ارباب کرم ہم سے تو دیکھا نہیں جاتا
اٹھتا ہی نہیں شام و سحر کوئے مغاں سے
یہ حال عدمؔ ہم سے تو دیکھا نہیں جاتا
عدم

Leave a Comment
%d bloggers like this: