Skip to content

Tag: Jaun Elia

Jaun Elia

دل کو اک بات کہہ سنانی ہے

دل کو اک بات کہہ سنانی ہے
ساری دنیا فقط کہانی ہے
تو میری جان داستان تھا کبھی
اب ترا نام داستانی ہے
سہہ چکے زخمِ التفات تیرا
اب تری یاد آزمانی ہے
اک طرف دل ہے، اک طرف دنیا
یہ کہانی بہت پرانی ہے
تھا سوال ان اداس آنکھوں کا
زندگی کیا نہیں گنوانی ہے
کیا بتاؤں میں اپنا پاسِ انا
میں نے ہنس ہنس کے ہار مانی ہے
ہوس انگیز ہے بدن میرا
ہائے میری ہوس کہ فانی ہے
روز مرہ ہے زندگی کا عجیب
رات ہے اور نیند آنی ہے
زندگی کس طرح گزاروں میں
مجھ کو روزی نہیں کمانی ہے
جون ایلیا
(لیکن)

Leave a Comment

تجھ بدن پر ہم نے جانیں واریاں

تجھ بدن پر ہم نے جانیں واریاں
تجھ کو تڑپانے کی ہیں تیاریاں

کر رہے ہیں یاد اسے ہم روز و شب
ہیں بھُلانے کی اسے تیاریاں

تھا کبھی میں اک ہنسی اُن کے لیے
رو رہی ہیں اب مجھے مت ماریاں

جھوٹ سچ کے کھیل میں ہلکان ہیں
خوب ہیں یہ لڑکیاں بےچاریاں

شعر تو کیا بات کہہ سکتے نہیں
جو بھی نوکر جونؔ ہیں سرکاریاں

جو میاں جاتے ہیں دفتر وقت پر
اُن سے ہیں اپنی جُدا دشواریاں

ہم بھلا آئین اور قانون کی
کب تلک سہتے رہیں غداریاں

سُن رکھو اے شہر دارو ! خون کی
ہونے ہی والی ہیں ندیاں جاریاں

ہیں سبھی سے جن کی گہری یاریاں
سُن میاں ہوتی ہیں ان کی خواریاں

ہے خوشی عیاروں کا اک ثمر
غم کی بھی اپنی ہیں کچھ عیاریاں

ذرّے ذرّے پر نہ جانے کس لیے
ہر نفس ہیں کہکشائیں طاریاں

اس نے دل دھاگے ہیں ڈالے پاؤں میں
یہ تو زنجیریں ہیں بےحد بھاریاں

تم کو ہے آداب کا برص و جزام
ہیں ہماری اور ہی بیماریاں

خواب ہائے جاودانی پر مرے
چل رہی ہیں روشنی کی آریاں

ہیں یہ سندھی اور مہاجر ہڈ حرام
کیوں نہیں یہ بیچتے ترکاریاں

یار! سوچو تو عجب سی بات ہے
اُس کے پہلو میں مری قلقاریاں

ختم ہے بس جونؔ پر اُردو غزل
اس نے کی ہیں خون کی گل کاریاں

جون ایلیا

Leave a Comment

یہ غم کیا دل کی عادت ہے؟ نہیں تو

یہ غم کیا دل کی عادت ہے؟ نہیں تو
کسی سے کچھ شکایت ہے؟ نہیں تو

کسی کے بن ،کسی کی یاد کے بن
جیئے جانے کی ہمت ہے؟ نہیں تو

ہے وہ اک خوابِ بے تعبیر اس کو
بھلا دینے کی نیت ہے؟ نہیں تو

کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ؟ ہاں
تو کچھ دن سے یہ حالت ہے؟ نہیں تو

ترے اس حال پر ہے سب کو حیرت
تجھے بھی اس پہ حیرت ہے؟ نہیں تو

وہ درویشی جو تج کر آ گیا تو
یہ دولت اس کی قیمت ہے؟ نہیں تو

ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری
تجھے اس پر ندامت ہے؟ نہیں تو

ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا
یہی ساری حکایت ہے ؟ نہیں تو

اذیت ناک امیدوں سے تجھ کو
اماں پانے کی حسرت ہے ؟ نہیں تو

تو رہتا ہے خیال و خواب میں گم
تو اس کی وجہ فرصت ہے ؟ نہیں تو

وہاں والوں سے ہے اتنی محبت
یہاں والوں سے نفرت ہے؟ نہیں تو

سبب جو اس جدائی کا بنا ہے
وہ مجھ سے خوبصورت ہے؟ نہیں تو

جون ایلیا

Leave a Comment

کیسا دل اور اس کے کیا غم جی

کیسا دل اور اس کے کیا غم جی
یونہی باتیں بناتے ہیں ہم جی

کیا بھلا آستین اور دامن
کب سے پلکیں بھی اب نہیں نم جی

اُس سے اب کوئی بات کیا کرنا
خود سے بھی بات کیجے کم کم جی

دل جو دل کیا تھا ایک محفل تھا
اب ہے درہم جی اور برہم جی

بات بے طَور ہو گئی شاید
زخم بھی اب نہیں ہیں مرہم جی

ہار دنیا سے مان لیں شاید
دل ہمارے میں اب نہیں دم جی

آپ سے دل کی بات کیسے کہوں
آپ ہی تو ہیں دل کے محرم جی

ہے یہ حسرت کہ ذبح ہو جاؤں
ہے شکن اس شکم کی ظالم جی

کیسے آخر نہ رنگ کھیلیں ہم
دل لہو ہو رہا ہے جانم جی

ہے خرابہ، حسینیہ اپنا
روز مجلس ہے اور ماتم جی

وقت دم بھر کا کھیل ہے اس میں
بیش از بیش ہے کم از کم جی

ہے ازل سے ابد تلک کا حساب
اور بس ایک پل ہے پیہم جی

بے شکن ہو گئی ہیں وہ زلفیں
اس گلی میں نہیں رہے خم جی

دشتِ دل کا غزال ہی نہ رہا
اب بھلا کس سے کیجیے رَم جی

جون ایلیا

Leave a Comment

دل کو اک بات کہہ سنانی ہے

دل کو اک بات کہہ سنانی ہے
ساری دنیا فقط کہانی ہے

تو میری جان داستان تھا کبھی
اب ترا نام داستانی ہے

سہہ چکے زخمِ التفات تیرا
اب تری یاد آزمانی ہے

اک طرف دل ہے، اک طرف دنیا
یہ کہانی بہت پرانی ہے

تھا سوال ان اداس آنکھوں کا
زندگی کیا نہیں گنوانی ہے

کیا بتاؤں میں اپنا پاسِ انا
میں نے ہنس ہنس کے ہار مانی ہے

ہوس انگیز ہے بدن میرا
ہائے میری ہوس کہ فانی ہے

روز مرہ ہے زندگی کا عجیب
رات ہے اور نیند آنی ہے

زندگی کس طرح گزاروں میں
مجھ کو روزی نہیں کمانی ہے

جون ایلیا

Leave a Comment

دل نے وحشت گلی گلی کر لی

دل نے وحشت گلی گلی کر لی
اب گلہ کیا، بہت خوشی کر لی

یار! دل تو بلا کا تھا عیاش
اس نے کس طرح خود کشی کر لی

نہیں آئیں گے اپنے بس میں ہم
ہم نے کوشش رہی سہی کر لی

اب تو مجھ کو پسند آ جاؤ
میں نے خود میں بہت کمی کر لی

یہ جو حالت ہے اپنی، حالتِ زار
ہم نے خود اپنے آپ ہی کر لی

اب کریں کس کی بات ہم آخر
ہم نے تو اپنی بات بھی کر لی

قافلہ کب چلے گا خوابوں کا
ہم نے اک اور نیند بھی کر لی

اس کو یکسر بھلا دیا پھر سے
ایک بات اور کی ہوئی کر لی

آج بھی رات بھر کی بےخوابی
دلِ بیدار نے گھری کر لی

کیا خدا اس سے دل لگی کرتا
ہم نے تو اس سے بات بھی کر لی

جون ایلیاء

Leave a Comment

تِرے خواب بھی ہُوں گنوارہا ، ترے رنگ بھی ہیں بکھررہے

تِرے خواب بھی ہُوں گنوارہا ، ترے رنگ بھی ہیں بکھررہے
یہی روز و شب ہیں تو جانِ جاں یہ وظیفہ خوار تو مررہے

وہی روزگار کی محنتیں کہ نہیں ہے فرصتِ یک نَفَس
یہی دن تھے کام کے اور ہم کوئی کام بھی نہیں کررہے

ہمیں شکوا تیری ادا سے ہے تری چشمِ حال فزا سے ہے
کہ دریچہ آگے بھی ہم ترے یونہی بے نشاطِ ہُنر رہے

مرا دل ہے خوں کہ ہوا یہ کیا ترے شہرِ ماجرا خیز کو
نہ وہ ہوش ہے نہ خروش ہے ، نہ وہ سنگ ہیں نہ وہ سر رہے

ہے مقابلے کی حریف کو بہت آرزو مگر اس طرح
کہ ہمارے ہاتھ میں دَم کو بھی کوئی تیغ ہو ، نہ سپر رہے

ّعجیب ایک ہم نے ہُنر کیا ، وہ ہُنر بطورِ دِگر کیا
کہ سفر تھا دُور و دراز کا ، سو ہم آکے خود میں ٹھر رہے

یہاں رات دن کا جو رن پڑا تو گلہ یہ ہے کہ یہی ہوا
رہے شہر میں وہی معتبر جو اِدھر رہے نہ اُدھر رہے

ہیں عجیب سایے سے گام زن کہ فضاے شہر ہے پُرفتن
نہیں شام یہ رہ و رسم کی ، جو ہے گھر میں اپنے وہ گھر رہے

جون ایلیا

Leave a Comment

ابھی فرمان آیا ہے وہاں سے

ابھی فرمان آیا ہے وہاں سے
کہ ہٹ جاؤں میں اپنے درمیاں سے

یہاں جو ہے تنفس ہی میں گم ہے
پرندے اڑ رہے ہیں شاخ جاں سے

دریچہ باز ہے یادوں کا اور میں
ہوا سنتا ہوں پیڑوں کی زباں سے

زمانہ تھا وہ دل کی زندگی کا
تیری فرقت کے دن لاؤں کہاں سے

تھا اب تک معرکہ باہر کا درپیش
ابھی تو گھر بھی جانا ہے یہاں سے

فلاں سے تھی غزل بہتر فلاں کی
فلاں کے زخم اچھے تھےفلاں سے

خبر کیا دوں میں شہر رفتگاں کی
کوئی لوٹے بھی شہر رفتگاں سے

یہی انجام کیا تجھ کو ہوس تھا
کوئی پوچھے تو میر داستاں سے

جون ایلیا

Leave a Comment
%d bloggers like this: