Skip to content

Month: March 2020

کیوں کرتے ہو دنیا کی ہر اک بات سے توبہ

کیوں کرتے ہو دنیا کی ہر اک بات سے توبہ
منظور تو ہے میری ملاقات سے توبہ

کیوں کر نہ کروں شورِ مناجات سے توبہ
آغاز ہو جب چار گھڑی رات سے توبہ

زاہد نے چُھپایا ہے اُسے گوشہ دِل میں
بھاگی تھی کسی رندِ خرابات سے توبہ

یہ فصل اگر ہو گی تو ہر روز پییں گے
ہم مے سے کریں توبہ کے برسات سے توبہ

کیوں کر وہ اِدھر آۓ کہ اے حضرتِ زاہد
بچتی ہی نہیں قبلہ حاجات سے توبہ

تعریفِ صنم بات ہے ، پتھر نہیں زاہد
کیا ٹوٹ گئی حرف و حکایات سے توبہ

بیعت بھی جو کرتا ہے تو وہ دستِ سبو پر
چکراتی ہے کیا رندِ خرابات سے توبہ

اللّه دکھاۓ نہ مجھے روز و شبِ ہجر
اُس دن سے حذر کیجیے اُس رات سے توبہ

خود ہم نہ ملیں گے ، نہ کہیں جائیں گے مہماں
کی آپ نے واللہ نئی گھات سے توبہ

کافر تری تقریر تو اچھی ہے کریں کیا
کرتے ہیں مسلمان بُری بات سے بات

وہ آئی گھٹا جھوم کے للچانے لگا دل
واعظ کو بلاؤ کہ چلی ہات سے توبہ

پُھسلاتے ہیں کیوں آپ مجھے حضرتِ ناصح
منت سے کروں گا نہ مدارات سے توبہ

آفت ہے ، قیامت ہے یہ پاداش ، غضب ہے
توبہ ، عملِ بد کی مکافات سے توبہ

دنیا میں کوئی بات ہی اچھی نہیں زاہد
اِس بات سے توبہ ، کبھی اُس بات سے توبہ

مسجد نہیں دربار ہے یہ پیرِ مغاں کا
دروازے کے باہر رہے اوقات سے توبہ

اُمید ہے مجھ کو یہ ندا آۓ دمِ مرگ
مقبول ہوئی اس کی عنایات سے توبہ

یہ داغِؔ قدح خوار کے کیا جی میں سمائی
سنتے ہیں کیے بیٹھے ہیں وہ رات سے توبہ

داغ دہلوی

Leave a Comment

دل کی مشکل کا مستقل حل ہو

دل کی مشکل کا مستقل حل ہو
وصل ہو ، ہجر ہو ، مکمل ہو

دل یا دنیا کی، جس کی مانتا ہوں
دوسرا چیختا ہے…… پاگل ہو

کاہے کہتے ہیں اس کو تنہائی
پاس ہی جب کوئی مسلسل ہو

ہے جو وارفتگی خیالوں میں
روبرو بھی تو ایسا اک پل ہو

کبھی ہم پر بھی آئے وہ موسم
آنکھ یہ آنکھ ہو، نہ بادل ہو

کچھ تو ابرک کبھی لکھو ایسا
پڑھنے والوں کا دل نہ بوجھل ہو

پوچھئے ان سے ڈوبنے کا مزا
جن کے قدموں کے نیچے ساحل ہو

جس کی آنکھوں نے تجھ کو دیکھ لیا
تجھ سے کم پر وہ کیسے قائل ہو

دو سے بنتی نہیں کہانی کوئی
تیسرا جب تلک نہ حائل ہو

یہ بھی لازم نہیں محبت کا
اب کوئی تیسرا ہی قاتل ہو

آپ اچھے ہیں سب سے اچھے ہیں
کیجئے کیا جو دل نہ مائلِ ہو

اس سفر کو مرا خدا حافظ
جس کی منزل نہ میری منزل ہو

اتباف ابرک

Leave a Comment

گلاب ہاتھ میں ہو آنکھ میں ستارہ ہو


گلاب ہاتھ میں ہو آنکھ میں ستارہ ہو
کوئی وجود محبت کا استعارہ ہو

میں گہرے پانی کی اس رو کے ساتھ بہتی رہوں
جزیرہ ہو کہ مقابل کوئی کنارہ ہو

کبھی کبھار اسے دیکھ لیں کہیں مل لیں
یہ کب کہا تھا کہ وہ خوش بدن ہمارا ہو

قصور ہو تو ہمارے حساب میں لکھ جائے
محبتوں میں جو احسان ہو تمہارا ہو

یہ اتنی رات گئے کون دستکیں دے گا
کہیں ہوا کا ہی اس نے نہ روپ دھارا ہو

افق تو کیا ہے در کہکشاں بھی چھو آئیں
مسافروں کو اگر چاند کا اشارا ہو

میں اپنے حصے کے سکھ جس کے نام کر ڈالوں
کوئی تو ہو جو مجھے اس طرح کا پیارا ہو

اگر وجود میں آہنگ ہے تو وصل بھی ہے
وہ چاہے نظم کا ٹکڑا کہ نثر پارہ ہو

پروین شاکر

Leave a Comment

رات کی بھیگی پلکوں پر

رات کی بھیگی پلکوں پر جب اشک ہمارے ہنستے ہیں
سناٹوں کے سانپ دلوں کی تنہائی کو ڈستے ہیں

کل تک مے خانے میں جن کے نام کا سکہ چلتا تھا
قطرہ قطرہ مے کی خاطر آج وہ لوگ ترستے ہیں

اے میرے مجروح تبسّم! روپ نگر کی ریت نہ پوچھ
جن کے سینوں میں پتھر ہیں ان پر پھول برستے ہیں

شہرِ ہوس کے سودائی خود جن کی روحیں ننگی ہیں
میرے تن کی عریانی پر آوازے کیوں کستے ہیں

چھین سکے گا کون صبا سے لمس ہماری سانسوں کا
ہم پھولوں کی خوشبو بن کر گلزاروں میں بستے ہیں

اشکوں کی قیمت کیا جانیں پیار کے جھوٹے سوداگر
ان سیال نگینوں سے تو ہیرے موتی سستے ہیں

کون آئے گا ننگے پیروں شمع جلا کر شام ڈھلے
پریم!! محبت کی منزل کے بڑے بھیانک رستے ہیں

Leave a Comment

گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگا

گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگا
مدتوں کے بعد کوئی ہم سفر اچھا لگا

دل کا دکھ جانا تو دل کا مسئلہ ہے پر ہمیں
اس کا ہنس دینا ہمارے حال پر اچھا لگا

ہر طرح کی بے سر و سامانیوں کے باوجود
آج وہ آیا تو مجھ کو اپنا گھر اچھا لگا

باغباں گلچیں کو چاہے جو کہے ہم کو تو پھول
شاخ سے بڑھ کر کف دل دار پر اچھا لگا

کوئی مقتل میں نہ پہنچا کون ظالم تھا جسے
تیغ قاتل سے زیادہ اپنا سر اچھا لگا

ہم بھی قائل ہیں وفا میں استواری کے مگر
کوئی پوچھے کون کس کو عمر بھر اچھا لگا

اپنی اپنی چاہتیں ہیں لوگ اب جو بھی کہیں
اک پری پیکر کو اک آشفتہ سر اچھا لگا

میرؔ کے مانند اکثر زیست کرتا تھا فرازؔ
تھا تو وہ دیوانہ سا شاعر مگر اچھا لگا

احمد فراز

Leave a Comment
%d bloggers like this: