Skip to content

Tag: Jigar Moradabadi

Jigar Moradabadi

ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں

ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں

بے فائدہ الم نہیں بے کار غم نہیں
توفیق دے خدا تو یہ نعمت بھی کم نہیں

میری زباں پہ شکوۂ اہل ستم نہیں
مجھ کو جگا دیا یہی احسان کم نہیں

یا رب ہجوم درد کو دے اور وسعتیں
دامن تو کیا ابھی مری آنکھیں بھی نم نہیں

شکوہ تو ایک چھیڑ ہے لیکن حقیقتاً
تیرا ستم بھی تیری عنایت سے کم نہیں

اب عشق اس مقام پہ ہے جستجو نورد
سایہ نہیں جہاں کوئی نقش قدم نہیں

ملتا ہے کیوں مزہ ستم روزگار میں
تیرا کرم بھی خود جو شریک ستم نہیں

مرگ جگرؔ پہ کیوں تری آنکھیں ہیں اشک ریز
اک سانحہ سہی مگر اتنا اہم نہیں

Leave a Comment

عِشق کی داستان ھے ، پیارے

عِشق کی داستان ھے ، پیارے
اپنی اپنی زبان ھے ، پیارے

کل تک اے درد یہ تپاک نہ تھا
آج کیوں مہربان ھے ، پیارے

اُس کا کیا کیجیے جو لب نہ کھلیں ؟؟
یوں تو منہ میں زبان ھے ، پیارے

یہ تغافل بھی ھے نگاہ آمیز
اِس میں بھی ایک شان ھے ، پیارے

جس نے اے دل دیا ھے اپنا غم
اُس سے تُو بدگمان ھے ، پیارے ؟؟

میرے اَشکوں میں اھتمام نہ دیکھ
عاشقی کی زبان ھے ، پیارے۔

ھم زمانے سے انتقام تو لیں
اِک حسین درمیان ھے ، پیارے

عشق کی ایک ایک نادانی
علم و حکمت کی جان ھے ، پیارے۔

تُو نہیں ، میں ھُوں ، میں نہیں ، تُو ھے
اب کچھ ایسا گمان ھے ، پیارے

کہنے سننے میں جو نہیں آتی
وہ بھی اِک داستان ھے ، پیارے

رکھ قدم پُھونک پُھونک کر ناداں
ذرے ذرے میں جان ھے ، پیارے

تیری برھم خرامیوں کی قسم
دل بہت سخت جان ھے ، پیارے

ھاں , تیرے عہد میں ، جِگر کے سِوا
ھر کوئی شادمان ھے ، پیارے

”جگر مُراد آبادی“

Leave a Comment

نیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیں

نیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیں
ہم اُن میں اور وہ ہم میں سمائے جاتے ہیں

شروعِ راہِ محبت، ارے معاذ اللہ
یہ حال ہے کہ قدم ڈگمگائے جاتے ہیں

یہ نازِ حسن تو دیکھو کہ دل کو تڑپا کر
نظر ملاتے نہیں، مسکرائے جاتے ہیں

مرے جنون تمنا کا کچھ خیال نہیں
لجائے جاتے ہیں، دامن چھڑائے جاتے ہیں

جو دل سے اُٹھتے ہیں شعلے وہ رنگ بن بن کر
تمام منظر فطرت پہ چھائے جاتے ہیں

میں اپنی آہ کے صدقے کہ میری آہ میں بھی
تری نگاہ کے انداز پائے جاتے ہیں

رواں رواں لئے جاتی ہے آرزوئے وصال
کشاں کشاں ترے نزدیک آئے جاتے ہیں

کہاں منازلِ ہستی، کہاں ہم اہلِ فنا
ابھی کچھ اور یہ تہمت اُٹھائے جاتے ہیں

مری طلب بھی اسی کے کرم کا صدقہ ہے
قدم یہ اُٹھتے نہیں ہیں اُٹھائے جاتے ہیں

الہٰی ترکِ محبت بھی کیا محبت ہے
بھلاتے ہیں انہیں، وہ یاد آئے جاتے ہیں

سنائے تھے لب نے سے کسی نے جو نغمے
لبِ جگر سے مکرر سنائے جاتے ہیں

جگر مرادآبادی

Leave a Comment

اُف کیا چیز تھی ظالم کی نظر بھی

اُف… کیا چیز تھی ظالم کی نظر بھی
آہ بھر کر وہیں بیٹھ گیا دردِ جگر بھی

ہوتی ہی نہیں کم شبِ فرقت کی سیاہی
رخصت ہوئی کیا شام کے ہمراہ سحر بھی؟

ہم مجرمِ الفت ہیں، تو وہ مجرمِ دیدار
دل لے کے چلے ہو تو لیے جاؤ نظر بھی

کیا دیکھیں گے ہم جلوہِ محبوب کہ ہم سے
دیکھی نہ گئی دیکھنے والے کی نظر بھی

مایوس شبِ ہجر نہ ہو اے دلِ بے تاب
اللہ دکھائے گا تو دیکھیں گے سحر بھی

جلووں کو ترے دیکھ کے جی چاہ رہا ہے
آنکھوں میں اتر آئے مرا کیفِ نظر بھی

واعظ نہ ڈرا مجھ کو قیامت کی سحر سے
دیکھی ہے ان آنکھوں نے قیامت کی سحر بھی

اُس دل کے تصدق جو محبت سے بھرا ہو
اُس درد کے صدقے جو ادھر بھی ہو اُدھر بھی

ہے فیصلہِ عشق جو منظور تو اُٹھئیے
اغیار بھی موجود ہیں حاضر ہے جگر بھی

جگر مراد آبادی

Leave a Comment

یک لحظہ خوشی کا جب انجام نظر آیا

یک لحظہ خوشی کا جب انجام نظر آیا
شبنم کو ہنسی آئی، دِل غنچوں کا بھر آیا

یہ کون تصوّر میں ہنگام سَحَر آیا
محسوس ہوا جیسے خود عرش اُتر آیا

خیر اُس کو نظر آیا، شر اُس کو نظر آیا
آئینے میں خود عکسِ آئینہ نگر آیا

اُس بزم سے دِل لے کر کیا آج اثر آیا
ظالم جسے سمجھے تھے، مظلُوم نظر آیا

اُس جانِ تغافل نے پھر یاد کیا شاید
پھر عہدِ محبت کا ہر نقش نظر آیا

گُلشن کی تباہی پر کیوں رنج کرے کوئی
اِلزام جو آنا تھا دیوانوں کے سر آیا

یہ محفلِ ہستی بھی کیا محفلِ ہستی ہے
جب کوئی اُٹھا پردہ، مَیں خود ہی نظر آیا

جگرؔ مراد آبادی

Leave a Comment

ستم کامیاب نے مارا

ستم کامیاب نے مارا
کرم لا جواب نے مارا

خود ہوئی گم ہمیں بھی کھو بیٹھی
نگہ بازیاب نے مارا

زندگی تھی حجاب کے دم تک
برہمئ حجاب نے مارا

عشق کے ہر سکون آخر کو
حسن کے اضطراب نے مارا

خود نظر بن گئی حجاب نظر
ہائے اس بے حجاب نے مارا

میں ترا عکس ہوں کہ تو میرا
اس سوال و جواب نے مارا

کوئی پوچھے کہ رہ کے پہلو میں
تیر کیا اضطراب نے مارا

بچ رہا جو تری تجلی سے
اس کو تیرے حجاب نے مارا

اب نظر کو کہیں قرار نہیں
کاوش انتخاب نے مارا

سب کو مارا جگرؔ کے شعروں نے
اور جگرؔ کو شراب نے مارا

جگرمرادآبادیؔ

Leave a Comment

ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں

ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں

بے فائدہ الم نہیں بے کار غم نہیں
توفیق دے خُدا تو یہ نعمت بھی کم نہیں

میری زباں پہ شکوہ اہل ستم نہیں
مُجھ کو جگا دیا یہی احسان کم نہیں

یا رب ہجوم درد کو دے اور وسعتیں
دامن تو کیا ابھی مری آنکھیں بھی نم نہیں

شکوہ تو ایک چھیڑ ہے لیکن حقیقتا
تیرا ستم بھی تیری عنایت سے کم نہیں

اب عشق اس مقام پہ ہے جستجو نورد
سایہ نہیں جہاں کوئی نقش قدم نہیں

ملتا ہے کیوں مزہ ستم روزگار میں
تیرا کرم بھی خود جو شریک ستم نہیں

زاہد کُچھ اور ہو نہ ہو میخانے میں مگر
کیا کم یہ ہے کہ فتنہ دیر و حرم نہیں

مرگ جگر پہ کیوں تری آنکھیں ہیں اشک ریز
اک سانحہ سہی مگر اتنا اہم نہیں

Leave a Comment

عشق میں لا جواب ہیں ہم لوگ

عشق میں لا جواب ہیں ہم لوگ
ماہتاب آفتاب ہیں ہم لوگ

گرچہ اہلِ شراب ہیں ہم لوگ
یہ نہ سمجھو خراب ہیں ہم لوگ

شام سے آ گئے جو پینے پر
صبح تک آفتاب ہیں ہم لوگ

ہم کو دعوائے عشق بازی ہے
مستحق عذاب ہیں ہم لوگ

ناز کرتی ہے خانہ ویرانی
ایسے خانہ خراب ہیں ہم لوگ

ہم نہیں جانتے خزاں کیا ہے
کشتگانِ شباب ہیں ہم لوگ

تو ہمارا جواب ہے تنہا
اور تیرا جواب ہیں ہم لوگ

تو ہے دریائے حسن و محبوبی
شکل موج و حباب ہیں ہم لوگ

گو سراپا حجاب ہیں پھر بھی
تیرے رخ کی نقاب ہیں ہم لوگ

خوب ہم جانتے ہیں اپنی قدر
تیرے نا کامیاب ہیں ہم لوگ

ہم سے غفلت نہ ہو تو پھر کیا ہو
رہروِ ملکِ خواب ہیں ہم لوگ

جانتا بھی ہے اس کو تو واعظ
جس کے مست و خراب ہیں ہم لوگ

ہم پہ نازل ہوا صحیفۂ عشق
صاحبانِ کتاب ہیں ہم لوگ

ہر حقیقت سے جو گزر جائیں
وہ صداقت مآب ہیں ہم لوگ

جب ملی آنکھ ہوش کھو بیٹھے
کتنے حاضر جواب ہیں ہم لوگ

ہم سے پوچھو جگرؔ کی سر مستی
محرمِ آں جناب ہیں ہم لوگ

(جگر مراد آبادی)​

Leave a Comment

اف یہ تیغ آزمائياں توبہ

اف یہ تیغ آزمائياں توبہ
تیری نازک کلائیاں توبہ

کیا کریں بندگانِ محبوبی
عاشقی کی خدائیاں توبہ

منزلِ عشق اے خدا کی پناہ
ہر قدم کربلائیاں توبہ

یاد و ایام و شوق و عشق و جنوں
چراغ کی فتنہ ضیائیاں توبہ

لطفِ بےگانگی معاذ اللہ
ان کی سادہ ادائیاں توبہ

حسن میں رقص کا سا اک عالم
شوق کی نے نوائیاں توبہ

ہائے غُمّازیاں نگاہوں کی
اپنی بے دست و پائیاں توبہ

اف وہ احساسِ حسن پہلے پہلے
یک بیک کج ادائیاں توبہ

اللہ اللہ عشق کی وہ جھجک
حسن کی کہربائیاں توبہ

اس کے دامن پہ دل کا جا پڑنا
ہم سے یہ بے وفائیاں توبہ

غیض سے ابروؤں پہ یہ شکنیں
دل پہ زور آزمائیاں توبہ

آستینوں کا وہ چڑھا لینا
گوری گوری کلائیاں توبہ

نظروں نظروں میں خواہش سربزم
دل ہی دل میں لڑائیاں توبہ

سوزِ غم کی شکایتیں ہائے ہائے
دردِ دل کی دُہائیاں توبہ

برملا سخت رنجشیں باہم
غائبانہ صفائیاں توبہ

اپنے مطلب سے عشق کی چھیڑیں
ظاہری بے وفائیاں توبہ

حسن و توہینِ عشق ہائے غضب
اپنی وہ خود ستائیاں توبہ

غیرتِ عشق اے معاذاللہ
اک دم بے وفائیاں توبہ

شبنم آلود وہ حسیں آنکھیں
رُخ پہ اڑتی ہوائیاں توبہ

اسکی غم التفاتیاں ہائے ہائے
اپنی بے اعتنائیاں توبہ

سرِ سودا کی سورشیں پیہم
ہر طرف جگ ہنسائیاں توبہ

رفتہ رفتہ وہ بے پناہ سکوت
سب سے آشنائیاں توبہ

موت سے ہر نَفَس وہ راز و نیاز
موت کی ہم نوائیاں توبہ

ناگہاں آمد آمد محبوب
غم کی بے انتہائیاں توبہ

یک بیک آنکھ چار ہو جانا
دیر تک رُو نمائیاں توبہ

نظروں نظروں میں سرگزشتِ فراق
دونوں جانب دہائیاں توبہ

پھر وہی چشمِ مست و جام بدست
پھر وہی نغمہ ضیائیاں توبہ

پھر وہی لب وہی تبسم ناز
پھر وہی کج ادائیاں توبہ

پھر وہ اک بے خودی کے عالم میں
مل کے باہم جدائیاں توبہ

ہجوم مے اور جنابِ جگر
پی پلا کر برائیاں توبہ

جگرمرادآبادی

Leave a Comment

دِل کــو مِـــٹَا کِے دَاغِ تَمَـــــنّا دِیَا مُجِھے

دِل کــو مِـــٹَا کِے دَاغِ تَمَـــــنّا دِیَا مُجِھے
اے عِشق! تِیرِی خَیر ہو، یِہ کَیا دِیَا مُجِھے

محشَر مِیں بَات بِھی نَہ زُبَاں سِےنِکل سَکِی
کَیا جُھک کِےاُس نِگَاہ نِےسَمجَھا دِیَا مُجِھے

مَــــیں ، اُور آرزُوئِے وِصَـــالِ پَـــرِی رُخــاں
اِس عِــشقِ سَادَہ لَوح نِے ، بہــکَا دِیَا مُجھے

ہَـر بَار، یَاس ہِجَـر مِیں دِل کِی ہُوئِی شَرِیک
ہَــر مَــرتَبہ ، اُمِیــد نِے دُھـــوکَہ دِیَا مُجِھے

اَللَہ رِے تِـــیغِ عِـــشق کِی بَرہَـم مِـــزَاجِیَاں
مِیـرے ہِی خُونِ شُوق مِـــیں نِہلَا دِیَا مُجِھے

خُوش ہُوں،کِہ حُسنِ یَارنِے خُوداَپنِےہَاتھ سِے
اِک دِل فَـرِیب دَاغِ تَمَــنّا دِیـاَ مُجِھے

دُنیــا سِے کُــھو چُکا تَھا مِــرَا جُـوشِ اِنتَظَار
آوَازِ پَائِے یَار نِے ، چُـــونکَا دِیا مُجھے

دَعــوٰی کِیَا تَھا ضَـبطِ مُحَبّت کَا ، اِے “جِگَرؔ!
ظَالِم نِے ، بَات بَات پِہ تَڑپَا دِیَا مُجِھے

جگر مراد آبادی

Leave a Comment
%d bloggers like this: