Skip to content

Month: December 2020

ہر چہرے میں آتی ہے نظر یار کی صورت

ہر چہرے میں آتی ہے نظر یار کی صورت
احباب کی صورت ہو کہ اغیار کی صورت

سینے میں اگر سوز سلامت ہو تو خود ہی
اشعار میں ڈھل جاتی ہے افکار کی صورت

جس آنکھ نے دیکھا تجھے اس آنکھ کو دیکھوں
ہے اس کے سوا کیا ترے دیدار کی صورت

پہچان لیا تجھ کو تری شیشہ گری سے
آتی ہے نظر فن سے ہی فنکار کی صورت

اشکوں نے بیاں کر ہی دیا رازِ تمنا
ہم سوچ رہے تھے ابھی اظہار کی صورت

اس خاک میں پوشیدہ ہیں ہر رنگ کے خاکے
مٹی سے نکلتے ہیں جو گلزار کی صورت

دل ہاتھ پہ رکھا ہے کوئی ہے جو خریدے؟
دیکھوں تو ذرا میں بھی خریدار کی صورت

صورت مری آنکھوں میں سمائے گی نہ کوئی
نظروں میں بسی رہتی ہے سرکار کی صورت

واصفؔ کو سرِ دار پکارا ہے کسی نے
انکار کی صورت ہے نہ اقرار کی صورت

Leave a Comment

کوئی ایسا خطّہءارض ہو، جہاں زندگی کا سماج ہو

کوئی ایسا خطّہءارض ہو، جہاں زندگی کا سماج ہو
جہاں آنسووں کا لحاظ ہو، جہاں روشنی کا رواج ہو

جہاں بیڑیاں نہ ہوں پاوں میں، جہاں چادروں کو گھٹن نہ ہو
جہاں خواب اپنا سفر کریں تو کسی نگہ کی چبھن نہ ہو

کوئی نظم ایسا دیار ہو، جہاں اک دئیے کا مزار ہو
جہاں منّتوں میں غزل بندھے،جہاں آیتوں کا حصار ہو

وہیں ایک حلقہءعاشقاں، ترا ذکر کرتا ہوا ملے
کوئی سر بہ زانو پڑا ملے، کوئی آہ بھرتا ہوا ملے

جہاں لوگ ایسے بھلے بسیں، جو مسافروں کو پناہ دیں
جہاں برگدوں سے بزرگ ہوں، کہ جو نوجوانوں کو راہ دیں

جہاں بات خلقِ خدا کی ہو، جہاں رِیت صرف دعا کی ہو
جہاں استعارے نئے بنیں، جہاں شاعری ہو، بلا کی ہو

کوئی ایک ایسی جگہ جہاں ! کسی آدمی کو ضرر نہ ہو
جہاں پر سکون ہو زندگی, جہاں قتل ہونےکا ڈر نہ ہو

علی زریون

Leave a Comment

اس کعبہِ دل کو کبھی ویران نہیں دیکھا​

اس کعبہِ دل کو کبھی ویران نہیں دیکھا​
اُس بت کو کب اللہ کا مہماں نہیں دیکھا​

کیا ہم نے عذابِ شبِ ہِجراں نہیں دیکھا​
تُم کو نہ یقیں آئے تو ہاں ہاں نہیں دیکھا​

کیا تو نے میرا حال پریشاں نہیں دیکھا​
اس طرح سے دیکھا کہ میری جاں نہیں دیکھا​

جب پڑا وصل میں شوخی سے کسی کا​
پھر ہم نے گریباں کو گریباں نہیں دیکھا​

ہم جیسے ہیں،ایسا کوئی دانا نہیں پایا​
تم جیسے ہو،ایساکوئی ناداں نہیں دیکھا​

راحت کے طلبگا رہزاروں نظر آئے​
محشر میں کوئی حور کا خواہاں نہیں دیکھا​

نظروں میں سمایا ہوا ساماں نہیں دیکھا​
لیلی نے کبھی قیس کو عریاں نہیں دیکھا​

اُس بُت کی محبت میں قیامت کا مزہ ہے​
کافر کو دوزخ میں پشیماں نہیں دیکھا​

کہتے ہو کہ بس دیکھ لیا ہم نے ترا دل​
دل دیکھ لیا اورپھر ارماں نہیں دیکھا​

کیا ذوق ہے کیا شوق ہے سو مرتبہ دیکھوں​
پھر بھی یہ کہوں جلوہ جاناں نہیں دیکھا​

محشر میں وہ نادم ہوں خُدا یہ نہ دِکھائے​
آنکھوں سے کبھی اُس کو پشیماں نہیں دیکھا​

جو دیکھتے ہیں دیکھنے والے تِرے انداز​
تو نے وہ تماشا ہی میری جاں ہی نہیں دیکھا​

ہر چند تیرے ظلم کی کُچھ حد نہیں ظالم​
پر ہم نے کسی شخص کو نالاں نہیں دیکھا​

گو نزع کی حالت ہے مگر پھر یہ کہوں گا​
کُچھ تمُ نے مرِا حالِ پریشاں نہیں دیکھا​

تُم غیر کی تعریف کروقہر خدُا ہے​
معشوق کو یوں بندہ احساں نہیں دیکھا​

کیا جذب محبت ہے کہ جب سینہ سے کھینچا​
سفاک تیرے تیر میں پیکاں نہیں دیکھا​

ملتا نہیں ہمکو دل گمُ گشتہ ہمارا​
تو نے تو کہیں اے غم جاناں نہیں دیکھا​

جو دن مجھے تقدیر کی گردش نے دِکھایا​
تو نے بھی وہ اے گردِشِ دوراں نہیں دیکھا​

کیا داد ملے اُسے پریشانیِ دل کی​
جس بتُ نے کبھی خوابِ پریشاں نہیں دیکھا​

میں نے اُسے دیکھا،مرے دل نے اُسے دیکھا​
تو نے اُسے اے دیدہ حیراں نہیں دیکھا​

تُمکو مرے مرنے کی یہ حسرت یہ تمنا​
اچھوں کو بُری بات کا ارماں نہیں دیکھا​

لو اور سنو کہتے ہیں وہ دیکھ کے مجھکو​
جو حال سنا تھا وہ پریشاں نہیں دیکھا​

تم منہ سے کہے جاؤ کہ دیکھا ہے زمانہ​
آنکھیں تو یہ کہتی ہیں ہاں ہاں نہیں دیکھا​

کیا عیش سے معمور تھی وہ انجمنِ ناز​
ہم نے تو وہاں شمع کو گرِیاں نہیں دیکھا​

کہتی ہے مری قبر پہ رو رو کے محبت​
یوں خاک میں ملتے ہوئے ارماں نہیں دیکھا​

کیوں پوچھتے ہو کون ہے یہ کسکی ہے شہرت​
کیا تم نے کبھی داغؔ کا دیوان نہیں دیکھ

Leave a Comment

یاد کیا آئیں گے وہ لوگ جو آئے نہ گئے

یاد کیا آئیں گے وہ لوگ جو آئے نہ گئے
کیا پذیرائی ہو اُن کی جو بُلائے نہ گئے

اب وہ نیندوں کا اُجڑنا تو نہیں دیکھیں گے
وہی اچھّے تھے جنھیں خواب دکھائے نہ گئے

رات بھر میں نے کھُلی آنکھوں سے سپنا دیکھا
رنگ وہ پھیلے کہ نیندوں سے چُرائے نہ گئے

بارشیں رقص میں تھیں اور زمیں ساکت تھی
عام تھا فیض مگر رنگ کمائے نہ گئے

پَر سمیٹے ہوئے شاخوں میں پرندے آ کر
ایسے سوئے کہ ہَوا سے بھی جگائے نہ گئے

تیز بارش ہو ، گھنا پیڑ ہو ، اِک لڑکی ہو
ایسے منظر کبھی شہروں میں تو پائے نہ گئے

روشنی آنکھ نے پی اور سرِ مژگانِ خیال
چاند وہ چمکے کہ سُورج سے بجھائے نہ گئے

پروین شاکر

Leave a Comment

وقت کی عمر کیا بڑی ہو گی​

وقت کی عمر کیا بڑی ہو گی​
اک ترے وصل کی گھڑی ہو گی​

دستکیں دے رہی ہے پلکوں پر​
کوئی برسات کی جھڑی ہو گی​

کیا خبر تھی کہ نوکِ خنجر بھی​
پھول کی ایک پنکھڑی ہو گی​

زلف بل کھا رہی ہے ماتھے پر​
چاندنی سے صبا لڑی ہو گی​

اے عدم کے مسافرو ہشیار​
راہ میں زندگی کھڑی ہو گی​

کیوں گرہ گیسوؤں میں ڈالی ہے​
جاں کسی پھول کی اڑی ہو گی​

التجا کا ملال کیا کیجے​
ان کے در پر کہیں پڑی ہو گی​

موت کہتے ہیں جس کو اے ساغر​
زندگی کی کوئی کڑی ہو گی​


​ ساغر صدیقی

Leave a Comment

یہ تُو جو پوچھتا پھرتا ہے ، بے دِلی ہے کیا؟

یہ تُو جو پوچھتا پھرتا ہے ، بے دِلی ہے کیا؟
تو پہلے یہ تو پتہ کر کہ دِل لگی ہے کیا

ہم اہلِ دِل جو محبت کا ساتھ دیتے ہیں
ہماری خوبی تمھیں عیب لگ رہی ہے کیا؟

قصور وار نہیں ہیں دِیے بُجھاتے لوگ
اِنھیں خبر ہی نہیں ہے کہ روشنی ہے کیا؟

بڑے غرور سے لوگوں سے بات کرتے ہو
تمھارے ہاتھ میں دولت نئی نئی ہے کیا؟

ہے رخ پہ گرد اور آئینہ صاف کرتے ہیں
اب اس سے بڑھ کے بتاؤ کہ “سادگی ہے کیا؟

گزشتہ سات برس سے ہوں لاپتہ خود سے
میری کہیں سے کوئی بھی خبر مِلی ہے کیا؟

میں ایک نظم لِکھوں گا تمھارے ہونٹوں پر
یہ قارئین بھی سمجھیں کہ “تازگی ہے کیا”

تیری نظر میں جو دنیا وسیع ہے ساحر
یہ کائنات تیری سوچ سے بڑی ہے کیا؟

Leave a Comment

قلم ، کاغذ ، تخیل اور کتابیں بیچ سکتی ہوں

قلم ، کاغذ ، تخیل اور کتابیں بیچ سکتی ہوں
پڑی مشکل تو گھر کی ساری چیزیں بیچ سکتی ہوں

مجھے قسطوں میں اپنی زندگی نیلام کرنی ہے
میں بھر بھر کے غباروں میں یہ سانسیں بیچ سکتی ہوں

پرندوں سے مرا جھگڑا ہے ، ان کے گھر اجاڑوں گی
اگر یہ پیڑ میرا ہے میں شاخیں بیچ سکتی ہوں

مرے کاسے میں بھی خیرات پڑ جائے محبت کی
سنو درویش کیا میں بھی دعائیں بیچ سکتی ہوں ؟

تمہارے بعد اب کس کو بصارت کی طلب ہوگی ؟
مناسب دام مل جائیں تو آنکھیں بیچ سکتی ہوں

بتائیں مفتیانِ علم و دانش میرے بچوں پر
اگر فاقہ مسلط ہو ، میں غزلیں بیچ سکتی ہوں ؟

کومل جوئیہ

Leave a Comment

وہی گردشیں وہی پیچ و خم ترے بعد بھی

وہی گردشیں وہی پیچ و خم ترے بعد بھی
وہی حوصلے مرے دم بدم ترے بعد بھی

ترے ساتھ تھی تری ہر جفا مجھے معتبر
تیرے سارے غم مجھے محترم ترے بعد بھی

ترے غم سے ہے مری ہر خوشی میں وقار سا
مرے حال پر ہیں ترے کرم ترے بعد بھی

بڑے مضطرب مرے راستے ترے بعد، پر
بڑے پُرسکوں ہیں مرے قدم ترے بعد بھی

تیرے ساتھ ہے میری ہر خوشی تیری منتظر
تیری منتظر مری چشمِ نم ترے بعد بھی

ترے ساتھ تھی مری دسترس میں جو روشنی
فقط ایک پل کبھی صبح دم ترے بعد بھی

تجھے جانِ غم جو کہا کبھی تو غلط کہا
مری زندگی کے جواں ہیں غم ترے بعد بھی

تجھے پاسِ عہدِ وفا رہا مرے پاس کب
مجھے جاں سے بڑھ کے ترا بھرم ترے بعد بھی

مرے بعد کتنے ہی رُوپ تُو نے بدل لیے
میں وہی ہوں اب بھی تری قسم ترے بعد بھی

تُو کسی کے قالبِ آرزو میں تو ڈھل گیا
میں نہ ہو سکا کبھی خود میں ضم ترے بعد بھی

یہی عشق تھا مری زندگی ترے پیشتر
یہی عاشقی، مِرا دهرم ! ترے بعد بھی

تری آہٹوں کا گداز تھا مرا ہم سفر
یہی اِک گماں مرا ہم قدم ترے بعد بھی

تُو چلا گیا سبھی قہقہوں کو سمیٹ کر
مرے پاس ہے مرا ظرفِ غم ترے بعد بھی

Leave a Comment

خوُشی کا غم ہے نہ غم کی کوئی خوُشی اب تو

خوُشی کا غم ہے نہ غم کی کوئی خوُشی اب تو
بہت اُداس گُزرتی ہے زندگی اب تو

تِرے بغیر بھی دل کی تسلیوں کے لیے
اِک اِنتظار کی شب تھی، سو ڈھل چُکی اب تو

اِک آشنا کے بچھڑنے سے کیا نہیں بدلا؟
ہَوائے شہر بھی لگتی ہے اجنبی اب تو

تمام رات رہی دل میں روشنی کی لکیر
مثالِ شمعِ سَحر، وہ بھی جَل بُجھی اب تو

چَلی تھی جن سے یہاں رسمِ خوُدنگہداری
اُنہیں عزیز ہُوا ذکرِ خوُدکشی اب تو

کہاں گئے وہ شناسا وہ اجنبی چہرے!
اُجاڑ سی نظر آتی ہے ہر گلی اب تو

محسن نقوی

Leave a Comment
%d bloggers like this: