Skip to content

Month: December 2020

بام و در و دریچہ و دہلیز و دار عشق

بام و در و دریچہ و دہلیز و دار عشق
ہر چیز پہ ہے سایہ فگن بے مہار عشق

کاسہ ، کڑا ، کلائی ، کرامت ، کشادگی
اک اک سے ہو رہا ہے عیاں بار بار عشق

کاغذ ، قلم ، حروف ، قرینے ، بیانیے
اظہار میں یوں لاتا ہے کیسا نکھار عشق

کھلتی نہیں کسی پہ بھی اس کی حقیقتیں
گاہے طرب شناس گہے غم گسارعشق

اک میں ہی اس کی آنچ میں تنہا نہیں جلا
کرتا ہے کائنات کا سینہ فگار عشق

دنیا کے واسطے ہے فقط بے ہنر سی شے
اور اہلِ درد کے لیے صدیوں کا بار عشق

رکھتا ہے ایک سمت لہو کو نچوڑ کر
اور اک طرف خزاں میں بھی لائے بہار عشق

ہے عشق آستاں پہ دھرا موتیے کا پھول
اور راہِ اعتبار میں اڑتا غبار عشق

عشق اس کے انتظار میں جلتی دیے کی لو
آنکھوں سے جھانکتا ہوا ساراخمار عشق

Leave a Comment

برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا

برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا
اب ذہن ميں نہيں ہے پر نام تھا بھلا سا

ابرو کھنچے کھنچے سے آنکھيں جھکی جھکی سی
باتيں رکی رکی سی لہجہ تھکا تھکا سا

الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر ميں تھے
بن جائے جنگلوں ميں جس طرح راستہ سا

خوابوں ميں خواب اُسکے يادوں ميں ياد اُسکی
نيندوں ميں گھل گيا ہو جيسے رَتجگا سا

پہلے بھی لوگ آئے کتنے ہی زندگی ميں
وہ ہر طرح سے ليکن اوروں سے تھا جدا سا

اگلی محبتوں نے وہ نا مرادياں ديں
تازہ رفاقتوں سے دل تھا ڈرا ڈرا سا

کچھ يہ کہ مدتوں سے ہم بھی نہيں تھے روئے
کچھ زہر ميں بُجھا تھا احباب کا دلاسا

پھر يوں ہوا کے ساون آنکھوں ميں آ بسے تھے
پھر يوں ہوا کہ جيسے دل بھی تھا آبلہ سا

اب سچ کہيں تو يارو ہم کو خبر نہيں تھی
بن جائے گا قيامت اک واقع ذرا سا

تيور تھے بے رُخی کے انداز دوستی کے
وہ اجنبی تھا ليکن لگتا تھا آشنا سا

ہم دشت تھے کہ دريا ہم زہر تھے کہ امرت
ناحق تھا زعم ہم کو جب وہ نہيں تھا پياسا

ہم نے بھی اُس کو ديکھا کل شام اتفاقا
اپنا بھی حال ہے اب لوگو فراز کا سا

احمد فراز

Leave a Comment

کہنے کو میرا اُس سے کوئی واسطہ نہیں

کہنے کو میرا اُس سے کوئی واسطہ نہیں
امجد مگر وہ شخص مجھے بُھولتا نہیں

ڈرتا ہُوں آنکھ کھولوں تو منظر بدل نہ جائے
مَیں جاگ تو رہا ہُوں مگر جاگتا نہیں

آشفتگی سے اُس کی اُسے بے وفا نہ جان
عادت کی بات اور ہے دِل کا بُرا نہیں

صاحبِ نظر سے کرتا ہے پتّھر بھی گُفتگو
ناجنس کے حضور زباں کھولتا نہیں

تنہا اُداس چاند کو سمجھو نہ بےخبر
ہر بات سُن رہا ہے مگر بولتا نہیں

خاموش رتجگوں کا دُھواں تھا چہار سُو
نِکلا کب آفتاب مُجھے تو پتا نہیں

امجد وہ آنکھیں جھیل سی گہری تو ہیں مگر
اُن میں کوئی بھی عکس مِرے نام کا نہیں

امجد اسلام امجد

Leave a Comment
%d bloggers like this: