Skip to content

دعا کرو گے تو حرفِ دعا نہیں ملنا

دعا کرو گے تو حرفِ دعا نہیں ملنا
محبتوں کا اگر سلسلہ نہیں ملنا

تمھیں دِکھانے ہیں کچھ زخم جو نہیں بھرنے
یقیں کرو کہ ہمیں بے وجہ نہیں ملنا

یہ اب جو تم بڑے بے خوف ہو کے پھرتے ہو
جو ہم نہ ہوں گے، تمھیں حوصلہ نہیں ملنا

میں چل رہا ہوں تمھارے بغیر بھی دیکھو
مجھے لگا تھا کہ اب راستہ نہیں ملنا

میں بانجھ پیڑ ہوں، مجھ پر ثمر نہیں آتے
بہت کہا تھا تجھے بھی صلہ نہیں ملنا

جہاں بچھڑتے ہوئے نم ہوئیں تری آنکھیں
کبھی دوبارہ تجھے اُس جگہ نہیں ملنا

مرے نصیب میں یہ بھی لکھا ہے آخر پر
“تجھے نصیب کا کچھ بھی لکھا نہیں ملنا”

بہت کٹھن ہے، مگر میں نے سوچ رکھا ہے
کسی بھی طور تجھے بے گلہ نہیں ملنا

وہ کس یقین سے کہتا تھا، زین! میرے بعد
تجھے بھی مجھ سا کوئی دوسرا نہیں ملنا

زین شکیل

Published inGazalsSad Poetry

Be First to Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: