Skip to content

Tag: Nasir Kazmi

Nasir Kazmi

میں ھُوں رات کا ایک بجا ھے

میں ھُوں رات کا ایک بجا ھے
خالی رستہ بول رھا ھے

آج تو یوں خاموش ھے دُنیا
جیسے کچھ ھونے والا ھے

کیسی اندھیری رات ھے دیکھو
اپنے آپ سے ڈر لگتا ھے

آج تو شہر کی رَوش رَوش پر
پتوں کا میلہ سا لگا ھے

آو گھاس پہ سَبھا جمائیں
میخانہ تو بند پڑا ھے

پُھول تو سارے جھڑ گئے لیکن
تیری یاد کا زخم ھرا ھے

تُو نے جتنا پیار کیا تھا
دُکھ بھی مجھے اتنا ھی دیا ھے

یہ بھی ھے ایک طرح کی محبت
میں تُجھ سے تُو مُجھ سے جُدا ھے

یہ تیری منزل ، وہ میرا رستہ
تیرا میرا ساتھ ھی کیا ھے

میں نے تو اِک بات کہی تھی
کیا تُو سَچ مُچ رُوٹھ گیا ھے

ایسا گاھک کون ھے جِس نے
سُکھ دے کر دُکھ مول لیا ھے

تیرا رستہ تکتے تکتے
کھیت گگن کا سُوکھ چلا ھے

کِھڑکی کھول کے دیکھ تو باھر
دیر سے کوئی شخص کھڑا ھے

ساری بستی سو گئی ناصر
تُو اب تک کیوں جاگ رھا ھے

Leave a Comment

اے ہم سُخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی

اے ہم سُخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی
مَیں اپنے ہاتھ کاٹ لوں ــ تُو اپنے ہونٹ سی

کن بے دلوں میں پھینک دیا حادثات نے
آنکھوں میں جن کی نُور ــ نہ باتوں میں تازگی

بول اے میرے دیار کی سوئی ہُوئی زمیں
میں جن کو ڈھونڈتا ہوں ــ کہاں ہیں وہ آدمی؟

وہ شاعروں کا شہر ـ ـ وہ لاہور بُجھ گیا
اُگتے تھے جس میں شعر ــ وہ کھیتی ہی جل گئی

میٹھے تھے جن کے پھل ـ ـ وہ شجر کٹ کٹا گئے
ٹھنڈی تھی جس کی چھاؤں ــ وہ دیوار گر گئی

بازار بند ـ ـ راستے سُنسان ، بے چراغ
وہ رات ہے ــ کہ گھر سے نکلتا نہیں کوئی

گلیوں میں اب تو ـ ـ شام سے پھرتے ہیں پہرہ دار
ہے کوئی کوئی شمع ــ سو وہ بھی بُجھی بُجھی

اے روشنئ دیدہ و دل ـ ـ اب نظر بھی آ
دُنیا ترے فراق میں ــ اندھیر ہو گئی

القصہ ـ ـ جیب چاک ہی کرنی پڑی ہمیں
گو اِبتدائے غم میں ــ بڑی احتیاط کی

اب جی میں ہے ـ ـ کہ سر کسی پتھر سے پھوڑیئے
ممکن ہے ــ قلبِ سنگ سے نکلے کوئی پری

بیکار بیٹھے رہنے سے بہتر ہے ـ ـ کوئی دن
تصویر کھینچیے ــ کسی موجِ خیال کی

ناصرؔ ـــــــ بہت سی خُواہشیں دل میں ہیں بے قرار
لیکن کہاں سے لاؤں ــ وُہ بے فِکر زندگی

Leave a Comment

نیتِ شوق بھر نہ جائے کہیں

نیتِ شوق بھر نہ جائے کہیں
تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں

آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد
آج کا دن گزر نہ جائے کہیں

نہ ملا کر اداس لوگوں سے
حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں

آرزو ہے کہ تو یہاں آئے
اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں

جی جلاتا ہوں اور سوچتا ہوں
رائیگاں یہ ہنر نہ جائے کہیں

آو کچھ دیر رو ہی لیں ناصر
پھر یہ دریا اتر نہ جائے کہیں

ناصر کاظمی

Leave a Comment

پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئے​

پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئے​
پھر پتوں کی پازیب بجی تم یاد آئے​

​پھر کونجیں بولیں گھاس کے ہرے سمندر میں​
رت آئی پیلے پھولوں کی تم یاد آئے​

​پھر کاگا بولا گھر کے سونے آنگن میں​
پھر امرت رس کی بوند پڑی تم یاد آئے​

​پہلے تو میں چیخ کے رویا اور پھر ہنسنے لگا​
بادل گرجا بجلی چمکی تم یاد آئے​

​دن بھر تو میں دنیا کے دھندوں میں کھویا رہا​
جب دیواروں سے دھوپ ڈھلی تم یاد آئے​

​ناصر کاظمی

Leave a Comment

دکھ کی لہر نے چھیڑا ہوگا

دکھ کی لہر نے چھیڑا ہوگا
یاد نے کنکر پھینکا ہوگا

آج تو میرا دل کہتا ہے
تو اس وقت اکیلا ہوگا

میرے چومے ہوئے ہاتھوں سے
اوروں کو خط لکھتا ہوگا

بھیگ چلیں اب رات کی پلکیں
تو اب تھک کر سویا ہوگا

ریل کی گہری سیٹی سن کر
رات کا جنگل گونجا ہوگا

شہر کے خالی اسٹیشن پر
کوئی مسافر اترا ہوگا

آنگن میں پھر چڑیاں بولیں
تو اب سو کر اٹھا ہوگا

یادوں کی جلتی شبنم سے
پھول سا مکھڑا دھویا ہوگا

موتی جیسی شکل بنا کر
آئینے کو تکتا ہوگا

شام ہوئی اب تو بھی شاید
اپنے گھر کو لوٹا ہوگا

نیلی دھندھلی خاموشی میں
تاروں کی دھن سنتا ہوگا

میرا ساتھی شام کا تارا
تجھ سے آنکھ ملاتا ہوگا

شام کے چلتے ہاتھ نے تجھ کو
میرا سلام تو بھیجا ہوگا

پیاسی کرلاتی کونجوں نے
میرا دکھ تو سنایا ہوگا

میں تو آج بہت رویا ہوں
تو بھی شاید رویا ہوگا

ناصرؔ تیرا میت پرانا
تجھ کو یاد تو آتا ہوگا

۔۔۔۔۔۔
ناصر کاظمی

Leave a Comment
%d bloggers like this: