Skip to content

ہر منظر میں اب ہم دونوں ہوتے ہیں

ہر منظر میں اب ہم دونوں ہوتے ہیں
مجھ میں ایسے آن بسی ہو، تم بھی ناں
عشق نے یوں دونوں کو ہم آمیز کیا
اب تو تم بھی کہہ دیتی ہو، تم بھی ناں
خود ہی کہو اب کیسے سنور سکتا ہوں میں
آئینے میں تم ہی ہوتی ہو، تم بھی ناں
بن کے ہنسی ان ہونٹوں پر بھی رہتی ہو
اشکوں میں بھی تم بہتی ہو، تم بھی ناں
کر جاتی ہو کوئی شرارت چپکے سے
چلو ہٹو، تم بہت بری ہو، تم بھی ناں
میری بند آنکھیں بھی تم پڑھ لیتی ہو
مجھ کو اتنا جان چکی ہو، تم بھی ناں
مانگ رہی ہو رخصت مجھ سے اور خود ہی
ہاتھ میں ہاتھ لئے بیٹھی ہو، تم بھی ناں

Published inUncategorized

Be First to Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: