Skip to content

یہ شرک ہے تصّورِ حسن وجمال میں

یہ شرک ہے تصّورِ حسن وجمال میں
ہم کیوں ہیں تم اگر ہو ہمارے خیال میں

جب سے مرا خیال تری جلوہ گاہ ہے
آتا نہیں ہوں آپ بھی اپنے خیال میں

اٹھّا ترا حجاب نہ میرے اٹھے بغیر
میں آپ کھوگیا ترے ذوقِ وصال میں

بیداریِ حیات تھی ایک خوابِ بیخودی
نیند آگئی مجھے تری بزمِ جمال میں

اب ہر ادائے عشق میں اندازِ حسن ہے
اب میں ہی میں ہوں آپ کی بزمِ جمال میں

چھائے ہوئے ہیں حسن کے جلوے جہان پر
تم ہو خیال میں ، کہ نہیں کچھ خیال میں

ہاں اے خدا ئے حسن دعائے جنوں قبول
میں تجھ سے مانگتاہوں تجھی کو سوال میں

حد ہوگئی فریبِ تصور کی اے ذہین
میں خود کو پیش کرتا ہوں اس کی مثال میں

حضرت بابا ذہین شاہ تاجی

Published inSad PoetrySufi Poetry

Be First to Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: