Skip to content

کہ کبھی زمیں سے گزر گئے کبھی آسماں سے گزر گئے

کہ کبھی زمیں سے گزر گئے کبھی آسماں سے گزر گئے
تجھے ڈھونڈتے ہوئے چند لوگ کہاں کہاں سے گزر گئے

جہاں رک گئے تھے ترے قدم ابھی ہم وہاں سے گزر گئے
یہ نشاں بتا رہے ہیں کہ لوگ یہاں یہاں سے گزر گئے

تجھے ان کی کوئی خبر بھی ہے تجھے ان کا کوئی پتہ بھی ہے
جو ترے نشان تک آتے آتے خود اپنی جاں سے گزر گئے

تھے جو روشنی کا سبب وہ سارے دیے ہوا نے بجھا دیے
کہ جو لوگ رونق بزم تھے وہی اس جہاں سے گزر گئے

تری عاشقی کی قسم یہی ترے عاشقوں کی حیات ہے
کبھی ہم فلک پہ ٹھہر گئے کبھی لامکاں سے گزر گئے

ہیں گلی گلی میں عداوتیں ہیں مگر نگر میں رقابتیں
وہی لوگ جو کہ عظیم تر تھے وہی جہاں گزر گئے

کبھی اپنا جلوہ دکھا ہمیں کبھی طور بن کے جلا ہمیں
تری دید کے لیے خطرہ ضررو زیاں سے گزر گئے

جسے ڈھونڈتے ہوئے ہم نے اپنی تمام عمر گزاردی
جو ملا ہمیں وہی آستاں تو اس آستاں سے گزر گئے

Published inGazalsUncategorized

Be First to Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: