Skip to content

میں مست الست کا بھید ہوں میں مستوں میں نروان

میں مست الست کا بھید ہوں میں مستوں میں نروان
میں پہلا نقطہ ب کا ہوں میں الف کا ہوں استھان
۔
میرے رخ پر گونگھٹ میم کا میں آپ ہوں جیم جمال
میرا ماتھا فقر کا جھومر ہے میں ولیوں کا پردھان
۔
میرے من میں شور حقیقت کا میرے لب پر چپ کی سکھ
میرے جسم کے ٹکڑے ٹوٹ کے کریں ہُو ہُو کی گردان
۔
لے جکڑ یہ گردش دہر کی۔۔۔۔۔۔ لے پکڑ سمے کی چھاپ
میرے سامنے وجد میں رقص ہے اور رقص میں ہے وجدان
۔
میرے اندر ساگر پریم کے میرے اندر ہاڑ اُہاڑ
میرے اندر عشق کی آگ ہے میرے اندر دیپک تان
۔
میں ناچوں تا تھک تھیا میں گائوں میگھ ملہار
میرے گھنگھرو کرتے چھن چھن نئی ہستی کا نرمان
۔
میرے بِھیت بسے پرماتما میرے بھیتر گوتم بدھ
مجھے سجدہ کرنے آتے ہیں کئی مندر کئی بھگوان
۔
میری بات نہ میری بات ہے میری بات ماہی کی بات
میرے شعر حدیثیں یار کی میرے لفظ ہیں پاک قرآن
۔
مجھے کون ڈرائے دار سے میرا کلمہ نعرہء حیدری
میں عشق اویس ہوں قرن کا میں میثم کا اعلان
۔
میں نعرہ ہوں منصور کا میں بلھے شاہ کا رقص
میرا نغمہ نحنُ اقرب ہے میری کون کرے پہچان
۔
میرا در ہے کعبہ عشق کا میرے فیض سے پاپ دھلیں
میں نظر کرم ہوں پیر کی میں گنگا کا اشنان
۔
میں کوئی شرک شریک نہیں میں وحدت کا ہوں بھید
میں اس کے نور کا مظہر ہوں میں آدم، میں انسان
۔
اس جا پر میں ہوں، میں نہیں، اس جا پر میں ہوں تم
میں دیکھ کے شیشہ حال کا خود ہو گیا ہوں حیران
۔
یہاں کوئی نہ الف، امیر ہے میرا ایک ہے نام نجیب
میں آپ قلندر، غوث ہوں میں آپ سخی سلطان

Published inSad PoetrySufi Poetry

One Comment

  1. Muhammad Ameer Hamza Muhammad Ameer Hamza

    شاعر کا نام بھی لکھ دیں
    ۔
    امیر سخن کا کلام ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: