Skip to content

رقصِ وحشت شعار ہے میرا

رقصِ وحشت شعار ہے میرا
گردِ صحرا غبار ہے میرا

کوئی زنجیرِ پا نہیں لیکن
قیدیوں میں شمار ہے میرا

جل رہے ہیں ضرورتوں کے چراغ
گھر نہیں ہے مزار ہے میرا

زخم اپنے کرید سکتا ہوں
جبر پر اختیار ہے میرا

جس طرف چاہوں گھوم لیتا ہوں
میری ایڑی مدار ہے میرا

ہے سبک دوش کوئی مجھ ایسا؟
میرے شانوں پہ بار ہے میرا

کُھل کے اک سانس بھی نہ لی میں نے
زندگی پر ادھار ہے میرا

بھاگتا ہوں پرے حقیقت سے
شعر گوئی فرار ہے میرا

پیرہن ہے دُھلا ہوا گویا
تن بہت داغ دار ہے میرا

ورنہ میں کب کا مر چکا ہوتا
دل پہ کب انحصار ہے میرا

آئینے میں بھی مَیں نہیں موجود
اور تجھے انتظار ہے میرا

سوچتا ہوں، دوبارہ سوچتا ہوں
کوئی پروردگار ہے میرا؟

میں ہوں مزدورِ کارِ رشتہ و ربط
ہر کوئی ٹھیکہ دار ہے میرا

شعر کہتا ہوں جی جلاتا ہوں
اب یہی روزگار ہے میرا

رائیگانی خرید کرتا ہوں
منفرد کاروبار ہے میرا

عارف امام

Published inGazalsSad PoetryUncategorized

Be First to Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: