ھم جنگل کے جوگی ھم کو ایک جگہ آرام کہاں
آج یہاں ، کل اور نگر میں ، صبح کہاں اور شام کہاں !
ابن انشاء
Leave a Commentھم جنگل کے جوگی ھم کو ایک جگہ آرام کہاں
آج یہاں ، کل اور نگر میں ، صبح کہاں اور شام کہاں !
ابن انشاء
Leave a Commentاور اب اداسی کی ستر پوشی کا مرحلہ ہے
تھکن کے دھاگوں سے ایک چادر بنا رہا ہوں
(عباس تابش)
Leave a Commentکوئی نہیں ھے یہاں جیسا خُوبرُو تُو ھے
حسیں بہت ھیں مگر میرے یار ! تُو تُو ھے
یہ غم کیا دل کی عادت ہے؟ نہیں تو
کسی سے کچھ شکایت ہے؟ نہیں تو
کیا کہا ؟ پھر تو کہو ، ھم کوئی شکوہ نہ کریں؟
چپ رھیں ، ظلم سہیں ، ظلم کا چرچا نہ کریں
اُس کی زُلفوں سے بھیگتی تھی گھٹا” اُس کا رُخ ماہتاب جیسا تھا
لوگ پڑھتے تھے خال و خَذ اُس کے” وہ اَدب کی کتابِ جیسا تھا
Leave a Commentعجب ضدیں ھوگئیں باھم، سراب لکھنا، چناب کہنا
اسی کو دل سے برا سمجھنا، اسی کو عزت مآب کہنا
ایک طُرفہ تماشا ہے طبیعتِ عُشاق
!….کبھی فراق میں باتیں، کبھی وصال میں چُپ
منیر نیازی
Leave a Commentآنکھ نے بُور اٹھایا ھے , درختوں کی طرح
یاد آتے ھیں اِسی رُت میں ، بُھلائے ھُوئے لوگ
”عباس تابش“
Leave a Comment