Skip to content

Month: June 2020

بتاؤ کون کہتا ہے, محبت بس کہانی ہے

بتاؤ کون کہتا ہے, محبت بس کہانی ہے
محبت تو صحیفہ ہے, محبت آسمانی ہے

محبت کو خدارا تم, کبھی بھی جھوٹ نہ سمجھو
محبت معجزہ ہے__ معجزوں کی ترجمانی ہے

محبت پھول کی خوشبو, محبت رنگ تتلی کا
محبت پربتوں کی جھیل کا شفاف پانی ہے

محبت اک ستارہ ہے, وفا کا استعارہ ہے
محبت سیپ کا موتی, بحر کی بیکرانی ہے

زمیں والے بتاؤ کس طرح سمجھیں محبت کو
محبت تو زمیں پر آسمانوں کی نشانی ہے

محبت روشنی ہے, رنگ ہے, خوشبو ہے , نغمہ ہے
محبت اڑتا پنچھی ہے, محبت بہتا پانی ہے

محبت ماؤں کا آنچل, محبت باپ کی شفقت
محبت ہر جگہ, ہر پل, خدا کا نقش ثانی ہے

محبت بہن کی الفت, محبت بھائی کی چاہت
محبت کھیلتا بچہ ہے اور چڑھتی جوانی ہے

محبت حق کا کلمہ ہے, محبت چاشنی من کی
محبت روح کا مرہم, دلوں کی حکمرانی ہے

محبت تو ازل سے ہے,محبت تا ابد ہوگی
محبت تو ہے آفاقی, زمانی نہ مکانی ہے

فنا ہو جاۓ گی دنیا, فنا ہو جائیں گے ہم تم
فقط باقی محبت ہے, محبت جاودانی ہے

Leave a Comment

ہم شاہ جہاں کے ہتھ کٹے مزدور تک گئے

ہم شاہ جہاں کے ہتھ کٹے مزدور تک گئے
فاقہ اور فکر ایک ساتھ تندور تک گئے

موسیٰ کے سوا کوئی بھی زندہ نہی بچا
جو لوگ خدا دیکھنے کوہِ طور تک گئے

اندھیرے میں اندھیرا ہی میرا ساتھی تھا
ہم روشنی کے دھوکے میں بڑی دور تک گئے

مولا تیری دنیا میں تجھے ہر جگہ ڈھونڈا
جب خود میں ہم اترے تو تیرے نور تک گئے

پھانسی کا اعلان جب مسجد میں ہوا تھا
پھر دیکھنے مجھے چوک میں معذور تک گئے

کچھ نے اسے کافر کہا کچھ نے شہیدِ حق
ہم حق کا ظرف کھوجنے منصور تک گئے

ہم لوگ ہوس زادے ہیں اسی واسطے حیدر
ہم لوگ تو جنت میں بھی بس حور تک گئے

Leave a Comment

مَیں آرزُوئے جاں لِکھُوں، یا جانِ آرزُو​

مَیں آرزُوئے جاں لِکھُوں، یا جانِ آرزُو​
تُو ہی بتا دے، ناز سے، ایمانِ آرزُو​

آنسو نِکل رہے ہیں تصوّرمیں بَن کے پھُول​
شاداب ہو رہا ہے گُلستانِ آرزُو​

ایمان و جاں نِثار تِری اِک نِگاہ پر​
تُو جانِ آرزو ہے، تُو ایمانِ آرزو ​

مصرِفِراق کب تلک؟ اے یُوسفِ اُمید!​
روتا ہے تیرے ہجْر میں کِنعانِ آرزُو ​

ہونے کو ہے طُلوع، صبَاحِ شبِ وصال!​
بُجھنے کو ہے چراغِ شبِسْتانِ آرزُو​

اِک وہ، کہ آرزؤں پہ، جیتے ہیں عُمْر بھر!​
اِک ہم، کہ ہیں ابھی سے پشیمانِ آرزُو​

آنکھوں سے جُوئے خُوں ہے روَاں، دل ہے داغ داغ​
دیکھے کوئی، بہارِ گُلِستانِ آرزُو​

دل میں نِشاطِ رفتہ کی دُھنْدلی سی یاد ہے!​
یا شمْعِ وصْل ہے، تہِ دامانِ آرزُو​

اختر کو زندگی کا بھروسا نہیں رہا​
جب سے، لُٹا چُکے سَروسامانِ آرزُو​

اختر شیرانی

Leave a Comment

وہ لوگ میرے بہت پیار کرنے والے تھے

وہ لوگ میرے بہت پیار کرنے والے تھے
گزر گئے ہیں جو موسم گزرنے والے تھے

نئی رُتوں میں دکھوں کے بھی سلسلے ہیں نئے
وہ زخم تازہ ہوئے ہیں جو بھرنے والے تھے

یہ کس مقام پہ سوجھی تجھے بچھڑنے کی
کہ اب تو جا کہ کہیں دن سنورنے والے تھے

ہزار مجھ سے وہ پیمانِ وصل کرتا رہا
پر اُس کے طور طریقے مُکرنے والے تھے

تمھیں تو فخر تھا شیرازہ بندیء جاں پر
ہمارا کیا ہے کہ ہم تو بکھرنے والے تھے

تمام رات نہایا تھا شہر بارش میں
وہ رنگ اُتر ہی گئے جو اُترنے والے تھے

اُس ایک چھوٹے سے قصبے پہ ریل ٹھیری نہیں
وہاں بھی چند مُسافر اُترنے والے تھے

Leave a Comment

کھیل میں کچھ تو گڑ بڑ تھی جو آدھے ہو کر ہارے لوگ

کھیل میں کچھ تو گڑ بڑ تھی جو آدھے ہو کر ہارے لوگ
آدھے لوگ نِری مٹی تھے ، آدھے چاند ستارے لوگ

اُس ترتیب میں کوئی جانی بوُجھی بے ترتیبی تھی
آدھے ایک کنارے پر تھے ، آدھے ایک کنارے لوگ

اُس کے نظم و ضبط سے باہر ہونا کیسے ممکن تھا
آدھے اس نے ساتھ ملائے ، آدھے اس نے مارے لوگ

آج ہماری ہار سمجھ میں آنے والی بات نہیں
اُس کے پورے لشکر میں تھے آدھے آج ہمارے لوگ

کس کے ساتھ ہماری یک جانی کا منظر بن پاتا
آدھے جان کے دشمن تھے اور آدھے جان سے پیارے لوگ

ان پر خواب ہوا اور پانی کی تبدیلی لازم ہے
آدھے پھیکے بے رس ہو گئے ، آدھے زہر تمہارے لوگ

آدھی رات ہوئی تو غم نے چپکے سے در کھول دیے
آدھوں نے تو آنکھ نہ کھولی آدھے آج گزارے لوگ

آدھوں آدھ کٹی یک جائی ، پھر دوجوں نے بیچوں بیچ
آدھے پاؤں کے نیچے رکھے ، آدھے سر سے وارے لوگ

ایسا بندو بست ہمارے حق میں کیسا رہنا تھا
ہلکے ہلکے چن کر اس نے آدھے پار اُتارے لوگ

کچھ لوگوں پر شیشے کے اُس جانب ہونا واجب تھا
دھار پہ چلتے چلتے ہو گئے آدھے آدھے سارے لوگ

Leave a Comment

اُس کی تمام عمر کا ترکہ خرید لے

اُس کی تمام عمر کا ترکہ خرید لے
بڑھیا کا دل تھا کوئی تو چرخہ خرید لے

بچوں کا رزق دے مجھے قیمت کے طور پر
تُو تو میرا خدا ہے نا ، سجدہ خرید لے

اک بوڑھا اسپتال میں دیتا تھا یہ صدا
ہے کوئی جو غریب کا گُردہ خرید لے ؟

مزدور کی حیات اِسی کوشش میں کٹ گئی
اک بار اُس کا بیٹا بھی بستہ خرید لے

ہم سر کٹا کے بیٹھے ہیں مقتل کی خاک پہ
دشمن سے کوئی کہہ دے کہ نیزہ خرید لے

تُو نے خریدے ہوں گے مؤذن عناد میں
گر بس میں ہے تو آ ! میرا لہجہ خرید لے

پیاسے کے اطمینان سے لگتا تھا دشت میں
چاہے تو مشک بیچ کے، دریا خرید لے

جب اُس سے گھر بنانے کے پیسے نہ بن سکے
وہ ڈھونڈتا رہا ، کوئی نقشہ خرید لے

بیٹی کی شادی سر پہ تھی اور دل تھا باپ کا
زیور کے ساتھ، چھوٹی سی گڑیا خرید لے

تُو بادشاہ ہے، فقر کے طعنے نہ دے مجھے
بس میں نہیں تیرے میرا کاسہ خرید لے

حیؔدر وہ صدیاں بیچ کے آیا تھا میرے پاس
ممکن نہیں ہوا، میرا لمحہ خرید لے

Leave a Comment

مقربین میں رمز آشنا کہاں نکلے

مقربین میں رمز آشنا کہاں نکلے
جو اجنبی تھے وہی ان کے رازداں نکلے

حرم سے بھاگ کے پہنچے جو دَیرِ راہب میں
تو اہلِ دَیر ہمارے مزاج داں نکلے

بہت قریب سے دیکھا جو فوجِ اعداء کو
تو ہر قطار میں یارانِ مہرباں نکلے

سکوتِ شب نے سکھایا ہمیں سلیقۂ نطق
جو ذاکرانِ سحر تھے وہ بے زباں نکلے

میانِ راہ کھڑے ہیں اس انتظار میں ہم
کہ گردِ راہ ہٹے، اور کارواں نکلے

گماں یہ تھا کہ پسِ کوہ بستیاں ہوں گی
وہاں گئے تو مزاراتِ بے نشاں نکلے

افق سے پہلے تو دھندلا سا اک غبار اٹھا
پھر اس کے بعد ستاروں کے کارواں نکلے

کمالِ شوق سے چھیڑا تھا جن کو مطرب نے
وہ راگ ساز کے سینے سے نوحہ خواں نکلے

رئؔیس حجرۂ تاریک جاں کو کھول تو دوں
جو کوئی آفتِ قتالۂ جہاں نکلے​

Leave a Comment
%d bloggers like this: