اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہی اس طرح کے کاموں میں
Leave a Commentجہاں پہ در بنانا ہو وہاں دیوار کرتے ہیں
ہم اہل دل محبت کو بہت دشوار کرتے ہیں
مسلسل خاموشی یوں بھی ہم کو مار ڈالے گی
تو پھر اب خوف کیسا ہے چلو انکار کرتے ہیں
بس ہم تو لشکری ہیں پھر بھلا ہتھیار کیوں ڈالیں
کہ ایسے کام تو سپہ سالار کرتے ہیں
رضی اہل محبت کا یہی انجام ہوتا ہے
انہیں دیوار میں چنتے ہیں یا سنگسار کرتے ہیں
بس اک اسی پہ تو پوری طرح عیاں ہوں میں
!وہ کہہ رہا ہے مجھے رائگاں، تو ہاں! ہوں میں
جسے دکھائی دوں، میری طرف اشارہ کرے
مجھے دکھائی نہیں دے رہا کہاں ہوں میں
میں خود کو تجھ سے مٹاؤں گا احتیاط کے ساتھ
تو بس نشان لگا دے، جہاں جہاں ہوں میں
کسی نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ تو بھول گیا
ابھی کسی نے بتایا تو تھا، فلاں ہوں میں
ہر ایک شخص کو اپنی پڑی ہوئی ہے یہاں
مرا خیال ہے اپنوں کے درمیاں ہوں میں
میں کس سے پوچھوں یہ رستہ درست ہے کہ غلط؟
جہاں سے کوئی گزرتا نہیں، وہاں ہوں میں
ادھر ادھر سے نمی کا رساؤ رہتا ہے
سڑک سے نیچے بنایا گیا مکاں ہوں میں
جبیں پہ ہجر کی تحریر درج کرنے میں
کسی پرانے قلم کی طرح رواں ہوں میں
!…عمیر نجمی
Leave a Commentچاند سا چہرہ ، نُور سی چتون ماشاء اللہ ! ماشاء اللہ
خوب نکالا آپ نے جوبن ماشاء اللہ ! ماشاء اللہ
گُل رُخِ نازک، زلف ھے سنبل آنکھ ھے نرگس ، سیب زنخداں
حُسن سے تم ھو غیرتِ گلشن ماشاء اللہ ! ماشاء اللہ
ساقیِ بزمِ روزِ ازل نے بادۂ حسن بھرا ھے اس میں
آنکھیں ھیں ساغر ، شیشہ ھے گردن ماشاء اللہ ! ماشاء اللہ
قہر غضب ظاھر کی رکاوٹ آفتِ جاں درپردہ لگاوٹ
چاہ کے تیور ، پیار کی چتون ماشاء اللہ ! ماشاء اللہ
غمزہ اچکّا، عشوہ ھے ڈاکو قہر ادائیں ، سحر ھیں باتیں
چور نگاھیں، ناز ھے رھزن ماشاء اللہ ! ماشاء اللہ
نور کا تن ھے ، نور کے کپڑے اُس پر کیا زیور کی چمک ھے
چَھلے، کنگن ، اِکے ، جوشن ماشاء اللہ ! ماشاء اللہ
جمع کیا ضدّین کو تم نے سختی ایسی ، نرمی ایسی
موم بدن ھے ، دل ھے آھن ماشاء اللہ ! ماشاء اللہ
واہ امیر ، ایسا ھو کہنا شعر ھیں یا معشوق کا گہنا
صاف ھے بندش ، مضموں روشن ماشاء اللہ ! ماشاء اللہ
امیر مینائی
Leave a Commentدقت نہیں گر میں تمہیں الجھا سا لگتا ہوں
میں پہلی مرتبہ ملنے میں سب کو ایسا لگتا ہوں
ضروری تو نہیں ہم ساتھ ہیں تو کوئی چکر ہو
وہ میری دوست ہے اور میں اسے بس اچھا لگتا ہوں
علی زریون
Leave a Commentلکھنا مرے مزار کے کتبے پہ یہ حروف
مرحوم زندگی کی حراست میں مر گیا
آئے تھے اگر تو دِل لُبھاتے جاتے
آنا تھا نہ یُوں تو پھر نہ آتے جاتے
دُہراؤں تو آتا ہے کلیجہ مُنھ کو
کُچھ یاد ہے، کیا کہا تھا جاتے جاتے
ــــــــــــــــــــــــــــــــ
پیر سیّد نصیر الدین نصیرؔ
یہ عشق محبت تمھارے بس کا نھیں رہنے دو
ہجر تو بہت دور تم بخار تک سہ نہیں سکتے
ہمارا ایک ہونا قدرت کی خلاف ورزی تھی
ویسے بھی دریا جھیل میں بہہ نہیں سکتے
تہذیب حافی
لوٹنا کب ہے تُو نے پر تُجھ کو
عادتاً ہی پُکارتے رہیں گے
اک مدت ہوٸی ہے تجھ سے ملے
یار تُو تو کہتا تھا رابطے رہیں گے
BaRre tahammul se rafta rafta nikalna hai,
Bacha hai jo tujh main mera hissa nikalna hai,
Yeh ruuh barson se dafan hai tum madad karo ge ?
Badan ke malbe se is ko zinda nikalna hai,
Nazar main rakhna kahin koi ghamm-shanaas gahak,
Mujhe sukhan bechna hai, kharcha nikalna hai,
Nikaal laya hoon ek pinjre se ik parinda,
Ab is parinde ke dil se pinjra nikalna hai,
Yeh tees barson se kuch baras peeche chal rahi hai,
Mujhe ghaRri ka kharab purza nikalna hai,
Khayal hai khandan ko ittilaa de doon,
Jo katt gaya us shajar ka shajra nikalna hai,
Main aik kirdar se baRra tang hoon qalamkaar,
Mujhe kahani main Daal ghussa nikalna hai..