Skip to content

کب تک باتیں کرتے جائیں در اور میں

کب تک باتیں کرتے جائیں در اور میں
ہر آہٹ پر چونک اٹھتے ہیں گھر اور میں

دن بھر اک دوجے سے لڑتے رہتے ہیں
رات کو تھک کر سو جاتے ہیں ڈر اور میں

گھر سے باہر بھی میری اک دنیا ہے
اور اس دنیا سے باہر ہیں گھر اور میں

چلتے چلتے دن کو شام آ لیتی ہے
تھک جاتے ہیں آخر ایک ڈگر اور میں

رات اور دن کا جادو جب ٹوٹے گا تو
آمنے سامنے ہوں گے شعبدہ گر اور میں

ہجر کے شعلوں میں اک ساتھ ہی پگھلیں گے
میر ی راہ میں حائل یہ پتھر اور میں

Published inGazalsSad Poetry

Be First to Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: