Skip to content

ٹوٹ جائیں گے بچا لے کوئی

ٹوٹ جائیں گے بچا لے کوئی
خواب نیندوں سے چرا لے کوئی

ابھی روشن ہیں ان آنکھوں کے دیے
اپنی راہوں میں جلا لے کوئی

وقت نے چھوڑ دیا ہے پیچھے
قافلہ ساتھ ملا لے کوئی

ہم ہیں سامان سمیٹے بیٹھے
دے کے آواز بلا لے کوئی

کورے کاغذ کی طرح آئیں گے
جو بھی من چاہے لکھا لے کوئی

مہ کشی کفر سمجھتا ہوں میں
اور چاہے جو پلا لے کوئی

میرے اپنے تو نہیں مانیں گے
چلو اب غیر منا لے کوئی

مجھ کو تعمیر نہیں کر سکتا
میرا ملبہ ہی اٹھا لے کوئی

اپنی نیندوں سے تو ڈر لگتا ہے
اپنی نیندوں میں سلا لے کوئی

یونہی بے کار بکے جاتا ہوں
آج اپنی ہی سنا لے کوئی

پھر اسی ڈر سے کسی کا نہ ہوا
مجھے پھر سے نہ گنوا لے کوئی

گھپ اندھیروں میں نباہوں ابرک
اپنا سایہ جو بنا لے کوئی

اتباف ابرک

Published inGazalsSad Poetry

Be First to Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: