Skip to content

خود کو بھی میں نہیں موافق ہوں

خود کو بھی میں نہیں موافق ہوں
توبہ میں کس قدر منافق ہوں

اک یہی عیب مجھ میں کافی ہے
میں نہیں آپ کے مطابق ہوں

اس جہاں میں جہاں برائی ہے
میں ہی ناچیز اس کا خالق ہوں

آپ ناحق بھی ہیں تو ہیں حق پر
اور میں حق پہ ہو کے ناحق ہوں

وقت اب یوں نظر چراتا ہے
جیسے اس کا پرانا عاشق ہوں

اک طرف عشق اک حماقت ہے
اک طرف میں ازل سے احمق ہوں

اس مرض کی ہو کیا دوا ابرک
جس میں خود،خود کو خود ہی لاحق ہوں

Published inGazalsSad Poetry

Be First to Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: