Skip to content

بہشت میں بھی پہنچ کر مجھے قرار نہیں

بہشت میں بھی پہنچ کر مجھے قرار نہیں
یہ کوئی اور جگہ ہے مقامِ یار نہیں

یہ کہہ کہ مجھکو لیے جا رہا ہے شوقِ وُجود
کہ آج سر نہیں یا آستانِ یار نہیں

گھٹا ہے ، برق ہے ، ساقی ، مے ہے ، یار نہیں
بہار تو ہے مگر ، حاصل ِ بہار نہیں

کبھی خیال کی حد میں تھا یار کا جلوہ
کہ اب ہے جلوہ ہی جلوہ ، خیالِ یار نہیں

کوئی بھی دیکھنے والوں میں ہوشیار نہیں
نگاہ ایک ہے جلوں کا کچھ شمار نہیں

وہ کوہِ طُور ہو یا سر زمین ِ دل بیدم
جمالِ یار سے خالی کوئی دیار نہیں

بیدمشاہوارثی

 

Published inGazalsSad PoetryUncategorized

Be First to Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: