Skip to content

جنگ ٹھہری تھی میری گردش_تقدیر کے ساتھ

جنگ ٹھہری تھی میری گردش_تقدیر کے ساتھ
میں قفس میں بھی الجھتا رہا زنجیر کے ساتھ

اگر اس خواب کی تعبیر جدائی ہے تو پھر
ہم تو مر جائیں اس خواب کی تعبیر کے ساتھ

روح آباد کرو گئے تو بدن اجڑے گا
اک خرابی بھی جنم لیتی ہے تعبیر کے ساتھ

دل کے زخموں سے الجھتے ہیں بھٹک جاتے ہیں
لفظ ڈھلتے ہیں میرے شہر میں تاخیر کے ساتھ

ایسا قاتل ہے مسیحا کے با انداز جنوں
دل کو دل سے ملاتا ہے شمشیر کے ساتھ

آنکھ اب بھی برستا ہوا بادل ٹھہری
چاند اب کے بھی نظر آیا ہے تاخیر کے ساتھ

ہم جو نو وارد_ عقلیم سخن ہیں محسن
کبھی غالب کے مقلد تو کبھی میر کے ساتھ

Published inGazals

Be First to Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: