Skip to content

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول زباں اب تک تیری ہے

تیرا ستواں جسم ہے تیرا
بول کہ جاں اب تک تیری ہے

دیکھ کہ آہن گر کی دکاں میں
تُند ہیں شعلے ،،، سرخ ہے آہن

کُھلنے لگے ہیں قفلوں کے دہانے
پھیلا ہے ہر اک زنجیر کا دامن

بول کہ یہ تھوڑا وقت بہت ہے
جسم و زباں کی موت سے پہلے

بول کہ سچ زندہ ہے اب تک
بول جو کچھ کہنا ہے کہہ لے

فیض احمد فیض

Published inGazalsSad Poetry

Be First to Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: