Categories: GazalsSad Poetry

ہمارے شعروں کی کیا حقیقت

ہمارے شعروں کی کیا حقیقت,تمہاری آنکھوں کے ترجمے ہیں
تمہاری آنکھیں کے جن کے جادو, ہزار راتوں کے ترجمے ہیں

جو تم ترقی کی بات لکھنا, تو یہ گواہی بھی ساتھ لکھنا
یہ ٹوٹی گلیاں یہ بھوکے بچے,تمہارے محلوں کے کے ترجمے ہیں

میں اس عدالت کو کیسے مانوں, بدست جابر جو بک گئی ہو
یہ جتنے کاغذ ہیں فیصلوں کے, سب غلاموں کے ترجمے ہیں

ہماری آنکھوں پہ طنز کیسا,ہماری حالت سے وحشتیں کیوں
کہ اپنی آنکھوں کے رتجگے بھی تمہاری نیندوں کے ترجمے ہیں

علی زریون

Haseeb Ahmed

Recent Posts

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہووہی…

3 years ago

اجڑ رہے تھے محبت میں درج ذیل تمام

اجڑ رہے تھے محبت میں درج ذیل تمام Continue readingاجڑ رہے تھے محبت میں درج…

3 years ago

سایہ سمجھا ہمیں شجر جانا

سایہ سمجھا ہمیں شجر جانا Continue readingسایہ سمجھا ہمیں شجر جانا

3 years ago

دلِ گمشدہ

دلِ گمشدہ ! کبھی مل ذرا Continue readingدلِ گمشدہ

3 years ago

مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے

مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے Continue readingمجنوں نے شہر چھوڑا تو…

3 years ago

اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں

اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں Continue readingاب کے تجدیدِ وفا کا نہیں…

3 years ago