Categories: GazalsSad Poetry

وقت کی عمر کیا بڑی ہو گی​

وقت کی عمر کیا بڑی ہو گی​
اک ترے وصل کی گھڑی ہو گی​

دستکیں دے رہی ہے پلکوں پر​
کوئی برسات کی جھڑی ہو گی​

کیا خبر تھی کہ نوکِ خنجر بھی​
پھول کی ایک پنکھڑی ہو گی​

زلف بل کھا رہی ہے ماتھے پر​
چاندنی سے صبا لڑی ہو گی​

اے عدم کے مسافرو ہشیار​
راہ میں زندگی کھڑی ہو گی​

کیوں گرہ گیسوؤں میں ڈالی ہے​
جاں کسی پھول کی اڑی ہو گی​

التجا کا ملال کیا کیجے​
ان کے در پر کہیں پڑی ہو گی​

موت کہتے ہیں جس کو اے ساغر​
زندگی کی کوئی کڑی ہو گی​


​ ساغر صدیقی

Haseeb Ahmed

Recent Posts

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہووہی…

3 years ago

اجڑ رہے تھے محبت میں درج ذیل تمام

اجڑ رہے تھے محبت میں درج ذیل تمام Continue readingاجڑ رہے تھے محبت میں درج…

3 years ago

سایہ سمجھا ہمیں شجر جانا

سایہ سمجھا ہمیں شجر جانا Continue readingسایہ سمجھا ہمیں شجر جانا

3 years ago

دلِ گمشدہ

دلِ گمشدہ ! کبھی مل ذرا Continue readingدلِ گمشدہ

3 years ago

مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے

مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے Continue readingمجنوں نے شہر چھوڑا تو…

3 years ago

اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں

اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں Continue readingاب کے تجدیدِ وفا کا نہیں…

3 years ago