بیت چلی برسات وے سانول
آج تو کر لے بات وے سانول
تھام ہمارا ہاتھ بھی آ کر
دھول ہوئی یہ ذات وے سانول
راج کماری خاک تمہاری
دیکھ مری اوقات وے سانول
شام سے پہلے لوٹ کے آنا
آج نہ کرنا رات وے سانول
بھولےسے بھی بھول نہ پاؤں
تیری کوئی بات وے سانول
زین وہ ٹھہرے آن مقابل
کھالی ہم نے مات وے سانول
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہووہی…
اجڑ رہے تھے محبت میں درج ذیل تمام Continue readingاجڑ رہے تھے محبت میں درج…
سایہ سمجھا ہمیں شجر جانا Continue readingسایہ سمجھا ہمیں شجر جانا
مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے Continue readingمجنوں نے شہر چھوڑا تو…
اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں Continue readingاب کے تجدیدِ وفا کا نہیں…